Friday, 11 January, 2008, 09:42 GMT 14:42 PST
امریکی بمبار طیاروں نے بغداد کے نواح میں القاعدہ کے مبینہ ٹھکانوں پر بھاری بمباری کی ہے جس میں دو بی ون اور چار ایف سولہ بمبار طیاروں نے حصہ لیا۔
عرب جبور نامی ضلع پر کیے جانے والے یہ حملے آپریشن فینٹم فینکس کی ایک کڑی ہیں جو منگل کو شروع ہوا تھا۔ اس کارروائی میں اب تک نو امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ عرب جبور ایک دیہی علاقہ ہے جو کھجور اور چکوترے کے باغات کے لیے مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ضلع القاعدہ کے لیے ایک محفوظ مقام بن چکا ہے۔
حال ہی میں صحت کی عالمی تنظیم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اپنے ایک سروے میں کہا ہے کہ عراق میں دو ہزار تین کے امریکی قبضے سے اب تک ایک لاکھ اکیاون ہزار عراقی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس سروے کے لیے عراق بھر میں نو ہزار خاندانوں سے انٹرویو کئے گئے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ جمعرات کے حملوں میں عرب جبور میں تین اہداف پر بمباری کی گئی ہے اور اس کے لیے زمینی اور فضائی دستوں
نے ’اپنے فوجی نقصانات کے تدارک کے لیے طویل منصوبہ بندی‘ کی۔ بی بی سی کے نامہ نگار ہمفرے ہاکسلی کے مطابق جانی نقصانات کے بارے
میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
![]() |
|
سروے مرتب کرنے والوں نے کہا ہے کہ انہیں اس سروے کے نتائج پر عمومی طور پر اعتماد ہے تاہم ایک لاکھ اکیاون ہزار کے اعداد وشمار حتمی نہیں قرار دیئے جا سکتے اور یہ ایک لاکھ چار ہزار سے دو لاکھ تئیس ہزار کے درمیان کچھ بھی ہوسکتے ہیں۔
عراقی ہلاکتوں کے بارے میں آزادانہ اعداد وشمار جمع کرنے والا دوسرا ادارہ ’عراق باڈی کاؤنٹ‘ ہے۔ یہ ادارہ اب تک کی کل اموات کی تعداد اسی ہزار تین سو اکیاسی سے ستاسی ہزار سات سو بانوے کے درمیان بتاتا ہے۔