Tuesday, 08 January, 2008, 10:19 GMT 15:19 PST
صدر بش کے اہم دورے سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم اور فلسطینی رہنما یروشلم میں ملاقات کر رہے ہیں تاکہ امن منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
گزشتہ سال امریکہ میں ہونے والی سربراہ ملاقات میں فلسطینی رہنما محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ سن دو ہزار آٹھ کے اختتام تک دو ریاستی حل کو حاصل کر لیا جائے گا۔
لیکن اسرائیلی بستیوں پر اختلاف اور سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال نے امن منصوبے پر پیش رفت کو نقصان پہنچایا۔
صدر بش بدھ کو شروع ہونے والے بطور صدر خطے کے اپنے پہلے دورے میں امن منصوبے پر اپنی کوششوں کا ازسرِنو آغاز کرنے والے ہیں۔
فلسطینی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یروشلم میں ہونے والی سربراہ ملاقات کا مقصد امریکہ میں شروع ہونے والے بات چیت کے سلسلے کو آگے بڑھانا ہے۔
امید کی جارہی ہے کہ صدر بش کے دورے سے پہلے فریقین حتمی بات چیت کے بنیادی ڈھانچے پر متفق ہو سکتی ہیں۔
یروشلم میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل مشرقی یروشلم کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کا قیام اور شدت پسندوں کی طرف سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملوں جیسے معاملات بات چیت کے ایجنڈے میں شامل ہو سکتے ہیں۔