Saturday, 05 January, 2008, 12:57 GMT 17:57 PST
کینیا کے صدر موائی کیباکی نے ملک میں قومی مصالحت کی حکومت بنانے کی پیش کش کی ہے۔
اس پیش کش سے قبل مسٹر کیباکی نے افریقی امور سے متعلق امریکہ کی اعلیٰ ترین سفارتکار جیندئیی فریزر سے ملاقات کی تھی۔ امریکی اہلکار نے حزب اختلاف کے رہنما رائلا اوڈینگا سے بھی بات چیت کی تھی۔
کینیا میں گزشتہ ماہ کے صدارتی انتخابات کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تھا کیونکہ حزب اختلاف کا الزام ہے کہ صدر کیباکی نے دھاندلی سے
یہ الیکشن جیتا تھا۔ تشدد نے جلد ہی قبائلی دشمنی کی شکل اختیار کر لی تھی کیونکہ دونوں رہنماؤں کا تعلق مختلف قبائل سے ہے۔
|
|
ایک سرکاری بیان کے مطابق ’مسٹر کیباکی قومی اتحاد کی حکومت بنانے کو تیار ہیں تاکہ ملک کے عوام کو متحد کیا جاسکے اور مصالحت کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔‘
لیکن بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق مسٹراوڈینگا اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ صدر استعفیٰ دیں اور انتخابات دوبارہ کرائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر کیباکی سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ محترمہ فریزر مسٹر اوڈنگا سے دبارہ بات چیت کریں گے۔
بیان کے مطابق امریکی سفارتکار نے حزب اختلاف سے بات چیت کرنے اور ملک میں تشدد پر قابو پانے کے لیے مسٹر کیباکی کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی ستائش کی اور فریقین سے اپیل کی کہ وہ اپنے اختلافات کا حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کا سہارا لیں۔
جمعہ کو مسٹر کیباکی نے کہا تھا کہ وہ حالیہ بدامنی کے خاتمے کے بعد حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے خبر دار کیا کہ’جو لوگ قانون کی خلاف ورزی جاری رکھیں گے انہیں حکومت کی پوری طاقت کا سامنا کرنا ہو گا۔
’میں اس بے وجہ تشدد سے بہت پریشان ہوں جسے کچھ رہنماؤں نے اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ہوا دی ہے‘۔