کینیا کے عام انتخابات کے متنازعہ نتائج کے بعد ہزاروں لوگ فسادات سے تنگ آکر اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ جیتنے اور ہارنے والے دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر قبائلی تشدد کو ہوا دینے کا الزام لگایا ہے۔
اب تک فسادات میں دو سو پچاس افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں وہ تیس افراد بھی شامل ہیں جو ایک چرچ میں پناہ لیے ہوئے تھے کہ انہیں زندہ جلا دیا گیا۔
پرتشدد ہنگاموں میں مسلح گروہوں اور لٹیروں سے سے بچنے کی خاطر عام لوگ کئی مقامات پر چرچوں اور دوسری عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
امریکہ اور برطانیہ نے افریقی یونین پر دباؤ دیا ہے کہ وہ فسادات پر قابو پانے کی کوشش کرے اور یونین کے چئرمین کینیا پہنچ رہے ہیں۔
جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں کامیاب قرار دیے جانے والے صدر موائی کیباکی اور ہارنے والے امیدوار رائیلا اوڈینگا دونوں نے قتل و غارت ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ رائیلا اوڈینگا کا الزام ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے۔
ایک سرکاری افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مسٹر اوڈینگا کے حامی سوچ سمجھ کر قبائیلی بنیادوں پر قتل و غارت کر رہے ہیں۔‘
دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فسادات کی ذمہ داری
براہ راست صدر کیباکی کی حکومت ہے۔
![]() |
|
| صدر موائی کیبا نے 4,584,721 ووٹ حاصل کئے |
کینیا میں موجود نامہ نگاروں کا کہنا ہے اگرچہ انتخابات میں جن مسائل پر لے دے ہو رہی تھی ان کا تعلق ملکی معیشت اور سیاست سے تھا لیکن اب خدشہ ہے کہ یہ چیزیں پس منظر میں چلی جائیں گی اور فسادات صرف قبائلی شکل اختیار کر جائیں گے۔
یورپی یونین کے الیکشن مبصرین نے بھی سرکاری طور پر ان انتخابات کے نتائج کے اعلان پر شکوک وشبہات ظاہر کیے تھے جبکہ افریقی یونین
کے چئرمین جان کوفور بدھ کو مسٹر کیباکی سے ملاقات کر رہے ہیں تا کہ اس تنازعے کا کوئی حل نکالا جا سکے۔
![]() |
|
| چرچ میں زندہ جل جانے والوں میں زیادہ تر بچے تھے |
واضح رہے کہ کینیا کی حکومت نے الیکشن سے متعلق کسی بھی عمل کی براہِ راست نشریات پر پابندی لگائے رکھی ہے۔