Monday, 31 December, 2007, 04:58 GMT 09:58 PST
امریکہ میں بش انتظامیہ اور سال دو ہزار آٹھ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل امیدواروں کی طرف سے مشرف حکومت پر سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی قابل اعتبار تحقیقات اور انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ سٹینزل نے ایک بیان میں کہا ہے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ شدت پسندوں سے نمٹے اور ساتھ ہی آزادانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے جمہوریت کی طرف سفر بھی کیا جائے۔
تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ (موجودہ حالات میں) انتخابات کی موزوں تاریخ کے فیصلے کا انحصار پاکستانی حکومت اور سیاسی جماعتوں پر ہے۔ ’لیکن (الیکشن ملتوی ہوتے ہیں تو) ہم چاہیں گے کہ متبادل تاریخ کا اعلان ضرور کیا جائے۔‘
ادھر امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے اپنے ایک بیان میں بش انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ (پاکستان کو) مزید امداد دینے سے پہلے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی تعاون پر اٹھنے والے سوالات کو حل کرنے کی کوشش کرے۔
پلوسی کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کیس کی تفتیش میں بین الاقوامی معاونت لینے سے انکار اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے دی گئی امریکی امداد کے استعمال میں بےقاعدگیوں کی اطلاعات کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس امداد کی شرائط پوری کی جا رہی ہیں۔
ہیلری کلنٹن
نیویارک سے نامہ نگار حسن مجتبٰی کے مطابق آئندہ صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار بننے کی خواہشمند سینیٹر ہیلری کلنٹن نے آئیووا سے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک امریکی ٹی وی کے لائيو شو کے دوران بینظیر بھٹو کے قتل کی اقوام متحدہ سے تحقیق کرائے جانے کے ان کے مطالبے پر کئے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا ’میرا مطلب ہے کسی بھی عالمی ادارے اور وہ انٹر پول بھی ہوسکتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تفتیش امریکی ادارے ایف بی آئی سے بھی کروائی جا سکتی ہے لیکن موجودہ حالات میں پاکستانی اس پر اعتبار نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کو القاعدہ نے قتل کیا یا اس جیسی کسی اور دہشتگرد تنظیم نے لیکن کھلی یا خفیہ طور اس واقعہ کی تحقحقیات کسی عالمی ٹریبیونل سے کروانا پاکستان کے مفادات میں ہے۔
انہوں نے بش انتظامیہ کیطرف سے مشرف حکومت کی حمایت پر شدید تنفید کرتے ہوئے کہا کہ صدر بش کا یہ بیان کہ صدر مشرف ہی پاکستان
میں امریکہ کے لیے قابل اعتماد ہیں۔ ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا ’وہ اب مزید قابل اعتماد نہیں رہے جب وہ پاکستان کے اندر جمہوریت
کی بیخ کنی کر رہے ہیں۔ ٹائي سوٹ میں ملبوس وکلاء، میڈیا اور سول سوسائٹی کے لوگوں کو سڑکوں پر پولیس سے پٹوا رہے ہیں تو اس صورتحال
میں صدر مشرف کو بلینک چیک نہیں دیا جا سکتا۔‘
![]() |
|
| ’بینظیر قتل کی تفتیش انٹرپول کے ذریعے بھی کرائی جا سکتی ہے‘ |