Sunday, 23 December, 2007, 11:47 GMT 16:47 PST
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ مشرقی یروشلم کی دو نو آبادیوں میں نئے مکانوں کی تعمیر کےمنصوبے پر عمل کرے گا حالانکہ پہلے اس نے وعدہ کیا تھا کہ نئی آبادیاں نہیں بسائی جائیں گی۔
یروشلم سے متعلق امور کے وزیر رفیع ایتان کے مطابق اسرائیل نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا وہ یروشلم میں نئے مکان نہیں بنائے گا کیونکہ اپنے شہریوں کو گھر فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔
اسرائیل ہار ہوما اور مالح ادومیم میں سات سو چالیس گھر بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایک فلسطینی ترجمان نے اس منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل قیام امن کے اس عمل کو تباہ کرنےکی کوشش کر رہا ہے جو امریکی شہر اناپولس میں اسرائیل اور فلسطین کے سربراہی اجلاس سے شروع ہوا تھا۔ یہ اجلاس صدر بش کے توسط سے ہوا تھا۔
فریقین نے اناپولس میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ سن دو ہزار تین کے نقشہ راہ یا روڈ میپ کو دوبارہ بحال کریں گے جس کے تحت اسرائیل کو نئی آبادیوں کی تعمیر بند کرنی تھی اور فلسطین کو عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر قابو پانا تھا۔
لیکن اس کانفرنس کے بعد اسرائیل نے ہار ہوما میں مکانوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا۔
اسرائیل نے انیس سو سڑۙسٹھ کی جنگ میں عرب آبادی والے مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا لیکن بین الاقوامی برادری اسے اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کرتی۔
اسرائیل کا دعوی ہے کہ ان مکانوں کی تعمیر کا منصوبہ سات سال پہلے تیار کیا گیا تھا اور ویسے بھی نقشہ راہ میں مشرقی یروشلم کا احاطہ نہیں کیا گیا تھا۔
مشرقی یروشلم کی نو آبادیوں میں ہزاروں یہودی رہتے ہیں اور توقع یہی ہے کہ جب کوئی حتمی فیصلہ ہوگا تو یہ علاقے اسرائیل کے قبضے میں ہی رہیں گی۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر نو آبادیوں کا کام جاری رہا تو مشرقی یروشلم کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کا دار الحکومت بنانے میں اڑچن پیدا ہوگی۔