Monday, 17 December, 2007, 23:07 GMT 04:07 PST
امریکہ نے روس کی جانب سے ایران کو جوہری ایندھن فراہم کرنے کے بعد کہا کہ اب ایران کو یورینیم کی افزودگی کا منصوبہ ترک کر دینا چاہیے۔ روس نے بشہر میں جوہری پلانٹ جوہری پلانٹ کو کئی ماہ کے تعطل کے بعد ایندھن کی کھیپ ترسیل کی ہے۔
امریکی صدر بش کی حکومت روسی حکومت پر دباؤ ڈالتی رہی ہے کہ وہ ایران کو جوہری ایندھن فراہم نہ کرےکیونکہ اسے خدشہ رہا ہے کہ ایران خفیہ طور پر اس ایندھن کے ذریعے جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے۔ مگر امریکہ کے خفیہ اداروں نے اپنی تازہ رپورٹ میں یہ کہا ہے کہ ایران سن دو ہزار تین سے جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ ترک کر چکا ہے۔ روسی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ یہی رپورٹ اب جوہری ایندھن کی فراہمی کا باعث بنی ہے جو کئی ماہ سےرکا ہواتھا۔
روس کے اس اقدام پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر جارج بش نے اب یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ روس کے ایندھن کی فراہمی کے عمل کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ بقول ان کے اب تو ایران کو اپنا یورینیم کا افزودگی کا پروگرام رکھنے کی ضرورت بھی نہیں رہی ہے۔
امریکی حکومت کو اب بھی اس بات پر تشویش جاری رہ سکتی ہے کہ ایرانی حکومت روسی جوہری ایندھن کے استعمال کے دوران پلوٹونیم نکال سکتی ہے جس سے ایٹم بم بن سکتا ہے۔ مگر روس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ جوہری ایندھن جوہری توانائی کے عالمی نگران ادارے آئی اے ای اے کے کنٹرول میں استعمال ہوگا اور بوشہر میں استعمال کے بعد یہ جوہری فضلہ روس کو واپس کر دیا جائے گا۔
روسی وزارت خارجہ نے اب بھی یہ اشارہ دیا ہے کہ ایران اب اپنا جوہری پروگرام روکنے کے بارے میں غور کرے۔ البتہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام جاری رہے گا۔ امریکی صدر جارج بش اب بھی مسلسل اصرار کر رہے ہیں کہ ایران خطے کے لیے خطرہ ہے اور اس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی تیسری قرارداد لانی ضروری ہے۔ مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ خود امریکہ کی اپنی انٹیلی جنس رپورٹ کے آنے کے بعد اب یہ کام مشکل ہے۔