Wednesday, 12 December, 2007, 02:59 GMT 07:59 PST
امریکہ کے خیفہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل مائیکل ہیڈن کو امریکہ کی کانگرس کی ایک کمیٹی میں دہشت گردی کے مبینہ ملزماں سے دوران تشویش تشدد کی ٹیپ بنانے اور پھر ان کو ضائع کرنے پر سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی کانگرس کی کمیٹی کی اس سماعت کے دوران جنرل مائیکل ہیڈن نے کہا ہے کہ ملزماں پر تشدد کی یہ وڈیو ٹیپ اور پھر ان کو ضائع کیا جانا ان کے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالنے سے قبل ہوا تھا۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے کانگرس کے سامنے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سی آئی اے کے ان اہلکاروں کو پیش کرنے میں تعاون کریں گے جو اس بارے میں زیادہ علم رکھتے ہیں۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ان ٹیپس میں تفتیش کے دوران ملزماں کو ’واٹر بورڈنگ‘ کے ذریعے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں ملزم کے منہ پر کپڑا باندھ کر اس کے منہ پر پانی ڈالا جاتا ہے۔
ابو زبیدہ گوانتانامو بے کے پہلے قیدی تھے جنہیں تفتیش کے دوران اس طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
سی آئی اے کے ایک اہلکار جان کریاکو کے مطابق یہ طریقہ کار کارآمد ثابت ہوا اور اس سے ملزماں کی زبان کھلوانے میں بڑی حد تک مدد ملی۔
جان کریاکو کے مطابق ابو زبیدہ پر تفتیش کے دوران ’واٹر بورڈنگ‘ کا حربہ استعمال کیا گیا تو انہوں نے اگلے ہی دن کہا کہ اللہ تعالی نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ تعاون کریں۔
نامہ نگاروں کے مطابق سی آئی اے نےان ٹیپس کو ضائع کرنا کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ وہ تمام ثبوت مٹائے دئے جائیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ تفتیش کے دوران گوانتانامو بے کے قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔