Tuesday, 11 December, 2007, 03:42 GMT 08:42 PST
نیٹو حکام کے مطابق افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند کے شہر موسیٰ قلعہ کو بغیر کسی مزاحمت کے طالبان کے قبضے سے آزاد کرا لیا گیا ہے۔ موسیٰ قلعہ طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کا واحد قابل ذکر شہر تھا۔
افغان، امریکی اور برطانوی افواج سات دسمبر سے موسیٰ قلعہ میں طالبان کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے تھے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ طالبان نے قریبی پہاڑوں پر پناہ لے لی ہے۔
نیٹو افواج کے حملے سے پہلے طالبان نے ہلمند کے گورنر کی طرف سے ہتھیار پھینکنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
طالبان نے اس سال فروری میں موسیٰ قلعہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔ گزشتہ روز افغان وزیر دفاع نے موسیٰ قلعہ سے دو اہم طالبان رہنماؤں ملا متین اخوند اور ملا رحیم اخوند کو گرفتار کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم نامہ نگار کا کہنا ہے کہ توقع یہی ہے کہ طالبان دوبار منظم ہو کر جوابی حملہ کرینگے، اس لیے نیٹو اور افغان افواج کو موسیٰ قلعہ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنا ہوگی۔
اطلاعات کے مطابق برطانوی فوج موسیٰ قلعہ میں اپنی چھاؤنی بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، لیکن شہر کے دفاع کی ذمہ داری افغان افواج کی ہی ہوگی۔
موسیٰ قلعہ میں جب آپریشن جاری تھا تو برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے ہلمند کا دورہ کیا اور اپنے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقے سے طالبان کے خاتمے کا اہم کام سرانجام دے رہے ہیں۔