Tuesday, 11 December, 2007, 11:59 GMT 16:59 PST
الجزائر میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت الجزیرہ میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم باسٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پہلا دھماکہ شہر کے مرکز میں آئینی عدالت کے نزدیک ہوا۔ جس کے کچھ دیر بعد حیدرہ کے علاقے میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کے نزدیک دوسرا دھماکہ ہوا۔
الجزائر کے وزیرِ داخلہ یزید زہرونی کا کہنا ہے کہ دھماکے دو کاروں میں نصب بموں کے پھٹنے کی وجہ سے ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ’بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں‘۔
حیدرہ میں ہونے والے دھماکے سے متاثر ہونے والے اقوامِ متحدہ کے ایک کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے سے عمارت کا ایک حصہ تباہ ہو گیا اور خدشہ ہے کہ تباہ شدہ عمارت میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے حکام نے دھماکوں سے عمارت کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے ترجمان ران ریڈمنڈ نے کہا ہے کہ’ادارہ برائے پناہ گزین کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور لاپتہ افراد کے بارے میں جاننے کے لیے ملازمین کی گنتی کی جار ہی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئینی عدلیہ کی عمارت کے قریب ہونے والے دھماکے کے ہلاک شدگان میں طلباء کا ایک گروہ شامل ہے۔
تاحال کسی تنظیم یا فرد نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ سالِ رواں کے دوران الجزائر کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکے ہو چکے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صرف ماہِ ستمبر میں ہی خود کش حملوں میں پچاس کے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔
الجزائر میں ہونے والے حالیہ دھماکوں کی ذمہ داری شمالی افریقہ میں القاعدہ کے سرگرم ارکان قبول کرتے رہے ہیں۔ یہ گروپ پہلے سلفی گروہ برائے تبلیغ و جہاد کے نام سے جانا جاتا تھا تاہم القاعدہ کا ساتھ دینے کے بعد اس نے اپنے آپ کو القاعدہ کے نام سے متعارف کروانا شروع کر دیا تھا۔