Friday, 07 December, 2007, 02:38 GMT 07:38 PST
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے کم از کم دو ایسے ویڈیو ٹیپ ضائع کیے جن میں القاعدہ کے مشتبہ کارکنوں سے تفتیش کے مناظر موجود تھے۔
سی آئی اے کے مطابق یہ ٹیپ اس وقت ضائع کیےگئے جب دو برس قبل اس کے خفیہ حراستی پروگرام کے حوالے سے چھان بین کی جا رہی تھی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس بات کا انکشاف ایجنسی کے ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے ملازمین کو لکھے گئے ایک خط میں کیا۔ خط کے مطابق یہ ویڈیو ٹیپ سنہ 2002 میں بنائے گئے تھے اور یہ اس خفیہ حراستی اور تفتیشی پروگرام کا حصہ تھے جس کا آغاز القاعدہ کے رہنما ابو زبیدہ کی گرفتاری کے بعد ہوا تھا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ان ویڈیو ٹیپس پر قیدیوں پر کیے جانے والے بہیمانہ تشدد کے ثبوت موجود تھے۔ سی آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ ٹیپ خفیہ ایجنٹوں کی شناخت چھپانے کے لیے ضائع کیےگئے اور اس وقت تک ان کی انٹیلیجنس اہمیت بھی ختم ہو چکی تھی۔
ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن کے مطابق’ یہ ٹیپ سکیورٹی رسک تھے۔ اگر یہ کسی کے ہاتھ لگ جاتے تو ان سے اس پروگرام میں شریک سی آئی اے ملازمین کی شناخت ہو سکتی تھی اور انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو القاعدہ اور اس کے حامیوں کی جانب سے ردعمل کے خطرے کا سامنا ہو سکتا تھا‘۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ویڈیو ٹیپس کے بارے میں تازےہ انکشاف سے ایک مرتبہ پھر سی آئی اے کی حراست میں مشتبہ افراد پر مبینہ تشدد پر بحث میں تیزی آ جائے گی جبکہ یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ آیا سی آئی اے کے ایجنٹ عدالتوں اور صدارتی کمیشن سے معلومات چھانے کے مرتکب تو نہیں ہوئے۔