Friday, 07 December, 2007, 05:49 GMT 10:49 PST
چینی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے وسطی علاقے میں ایک کان میں بدھ کو ہونے والے دھماکے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو پانچ ہو گئی ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق حکام نے کوئلے کی پیداوار کے لیے مشہور چینی صوبے شینگ زی کے شہر لن فن میں واقع اس کان کے مینیجرز کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔
مینیجرز پر الزام ہے کہ انہوں نے کوئلہ کی تلاش میں ایسی جگہ کانکنی کی جہاں اس کام کی اجازت نہیں تھی۔ مینیجرز پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے حکام کو اس حادثے کی اطلاع چھ گٹنے کی تاخیر سے دی اور اس دوران وہ اپنے طور پر امدادی کوششوں میں لگے رہے۔
اطلاعات کے مطابق جائے حادثہ سے پندرہ افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ سرکاری ترجمان کے مطابق دھماکے کے بعد بتیس افراد پر مشتمل امدادی ٹیم بھیجی گئی تھی مگر وہ سب بھی دھماکے کی جگہ پر پھنس گئے۔
ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے چینی کانوں کے مالکان نفع کی خاطر حفاظتی انتظامات کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں اس قسم کے حادثات رونما ہوتے ہیں۔
چین کی کانیں دنیا کی خطرناک ترین کانوں میں شمار کی جاتی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ہر برس قریباً پانچ ہزار افراد ان کانوں میں ہونے والے مختلف حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اسی برس اگست میں چینی صوبےشانگ ڈونگ میں ایک سو اکیاسی کانکن اس وقت ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے جب کان میں سیلابی پانی بھر گیا تھا۔
چین کی حکومت نے حال ہی میں متنبہ کیا تھا کہ سرد موسم میں بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کان میں کام میں اضافے سے حادثات اور ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔