Saturday, 24 November, 2007, 08:30 GMT 13:30 PST
لبنان میں صدر کے عہدے کے خالی ہونے کے بعد ملک میں سیاسی خلاء پیدا ہو گیا ہے جبکہ حریف جماعتوں کے درمیان آئندہ قیادت سنبھالے جانے کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔
لبنان کے شام نواز صدر ایمائل لاہود نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے کچھ دیر قبل کہا تھا کہ فوج کو اقتدار سنبھال لینا چاہیے۔ تاہم مغرب نواز وزیراعظم فواد سینیورا کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت عارضی طور پر انتظامی اختیارات ان کو اور ان کی کابینہ کو تقویض ہو گئے ہیں۔
ملک میں جاری حالیہ سیاسی بحران کی وجہ سے مخالف جماعتوں کے درمیان تصادم کا خطرہ اور ملک میں بیک وقت دو الگ حکومتوں کے قیام کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر کے انتخاب کے قریب آتے ہی شہر کی گلیوں میں تناؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی جبکہ شہر میں فوج کو تعینات کردیا گیا ہے اور سکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
جمعہ کی درمیانی شب صدر کے عہدے کی مدت کے باضابطہ طور پر ختم ہونے سے ذرا دیر قبل لبنان کا قومی ترانہ بجایا گیا بعد ازاں 71 سالہ صدر ایمائل لاہود صدارتی محل سے رخصت ہو گئے۔ وہ نو سال تک صدر کے عہدے پر فائز رہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لبنان کے سابق صدر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ (اراکینِ پارلیمان) دو تہائی اکثریت سے نئے آئینی صدر کا انتخاب نہیں کرتے تو ہمارے پاس صدر کے عہدے کے لیے کئی لوگ موجود ہیں۔
![]() | |
| لبنان کے شام نواز سابق صدر نے فواد سینیورا کی مغرب نواز حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا |
صدر کے انتخاب کے سلسلے میں کی جانے والی کوششیں کے حوالے سے جمعہ کو بھی کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ لبنان کے آئین کے تحت صدر کا انتخاب پارلیمان کرتی ہے تاہم اس ضمن میں درکار کورم شام نواز حزب مخالف جماعتوں کی عدم شرکت کے باعث پورا نہ ہوسکا جس کی وجہ سے صدر کے انتخاب کے لیے ہونے والی رائے شماری نہ ہو سکی۔ صدر کے انتخاب کے لیے نئی ووٹنگ تیس نومبر کو ہو گی۔
امریکہ نے تمام جماعتوں سے پرامن رہنے کو کہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت نئے صدر کے انتخاب تک لبنان کی موجودہ کابینہ کو عارضی بنیادوں پر ملک کی انتظامی ذمہ داریاں سنبھال لینی چاہیے۔
صدر نے اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے سے ذرا دیر قبل اپنے ترجمان کے ذریعے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی صورت حال اور خدشات موجود ہیں کہ جن کے پیش نظر ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی جا سکے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ملک میں سیاسی خلاء پیدا ہو گیا ہے یہاں تک کہ ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ پر بھی حریف جماعتوں کی آرا تقسیم ہو گئی ہے۔ تاہم صدر لاہود جنہوں نے حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے، آئینی طور پر وہ حکومت کی حمایت کے بغیر ملک میں ہنگامی حالت نافذ نہیں کرسکتے۔
وزیراعظم فواد سینیورا کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ صدر کے دفتر سے جاری ہونے والا بیان غیر آئینی ہے اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس وقت کم از کم ایک بات جس پر ہر ایک شخص متفق ہے وہ یہ کہ لوگ دوبارہ خانہ جنگی نہیں چاہتے۔