Friday, 16 November, 2007, 11:04 GMT 16:04 PST
حکام کے مطابق بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں تیز سمندری طوفان کی وجہ سے چھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ طوفان بنگلہ دیش کے جنوبی ساحلی علاقوں سے ٹکرایا اور کئی دیہات تباہ ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے اور ابھی تک یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ نقصان کتنا ہوا ہے۔ بعض غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد گیارہ سو سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل ساحلی علاقوں میں تیز سمندری طوفان کے خطرے کے پیش نظر مکمل چوکسی برتنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی اور مونگلا اور چٹگام کے بڑے بندرگاہوں پر کام روک دیا گیا تھا۔
لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے لیکن پھر بھی سینکڑوں ایسے ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں۔ تاہم جمعہ کی صبح طوفان کی شدت میں کمی آ گئی تھی۔
فوج، کوسٹ گارڈ اور پولیس کے چالیس ہزار سے زیادہ اہلکار ساحلی علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔صدر نامی اس طوفان سے سب سے زیادہ نقصان بنگلہ دیش کے جنوبی ساحل پر ہوا ہے۔ اندازوں کے مطابق دسیوں ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا ادارۂ برائے خوراک ہنگامی طور پر چار لاکھ افراد کے لیے خوراک بھیج رہا ہے۔ حکومت، ریڈ کراس اور دیگر غیر سرکاری تنظیمیں بھی ٹیمیں بھیج رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اس سمندری طوفان کے نتیجے میں سولہ فٹ اونچی لہریں اٹھی تھیں۔
تقریباً پورے ملک میں بجلی غائب ہے اور متاثرہ علاقوں میں امداد کا سامان پہنچانے میں شدید دشواری ہو رہی ہے۔
دریاؤں میں فیری سروس بند ہے، سڑکوں پر پیڑ گرے پڑے ہیں اور ڈھاکہ کا ہوائی اڈہ بھی بند ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق کئی اضلاع سے ابھی تک رابطہ نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے مرنے والوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہو پا رہی ہے۔
ماہیگیروں کی کم سے کم ڈیڑھ سو کشتیاں ابھی سمندر سے نہیں لوٹی ہیں اور ایک ہزار ماہیگیر لاپتہ بتائے جارہے ہیں۔
سمندری طوفان خلیج بنگال سے اٹھا تھا اور اس کے نتیجے میں دو سو چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں۔ لیکن طوفان ہندوستان کے مشرقی ساحلی علاقوں کو کوئی خاص نقصان پہچائے بغیر گزر گیا۔
بنگلہ دیش نے ساحلی علاقوں میں طوفان سے بچنے کے لیے پناہ گاہیں بنائی ہیں جن کی وجہ سے طوفانوں سے مرنے والوں کی تعداد اب بہت کم ہوگئی ہے۔ انیس سو ستر میں ایک تباہ کن طوفان نے پانچ لاکھ لوگوں کی جان لی تھی۔