Thursday, 15 November, 2007, 11:47 GMT 16:47 PST
بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں تیز سمندری طوفان کے خطرے کے پیش نظر مکمل چوکسی برتنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اور مونگلا اور چٹگام کے بڑے بندرگاہوں پر کام روک دیا گیا ہے۔
طوفان خلیج بنگال سے بنگلہ دیش کا رخ کر رہا ہے اور جن علاقوں میں سب سے زیادہ تباہی کا خطرہ ہے، وہاں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
فوج، کوسٹ گارڈ اور پولیس کے چالیس ہزار سے زیادہ اہلکار ساحلی علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق طوفان آئندہ چند گھنٹوں میں بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گا۔
اس دوران دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں گی اور ہندوستان اور برما کے مغربی ساحل پر واقع علاقے بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں عہدیداران کا کہنا ہے کہ ہزاروں خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش میں ماحول میں تبدیلی کے اثر کا جائزہ لینے کے لیے بی بی سی کے ایک پراجیکٹ کے تحت جو کشتی ملک کے بڑے دریاؤں کا سفر کر رہی ہے، اس پر موجود نامہ نگار الیسٹئر لاسن کے مطابق موسم تیزی سے خراب ہو رہا ہے۔
یہ کشتی اسوقت دریائے جمنا میں ڈھاکہ کے قریب موجود ہے۔
عہدیداران کے مطابق بنگلہ دیش میں اب سمندری طوفانوں کی پیشگی وارننگ کا نظام کافی بہتر ہوگیا ہے جس کی وجہ ماضی کے مقابلے میں اب طوفانوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اس طوفان کے نتیجے میں دو فٹ اونچی لہریں اٹھ سکتی ہیں۔ یہ طوفان اس سال کا سب سے خطرناک بتایا جارہا ہے اور اس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوگی۔