Wednesday, 14 November, 2007, 03:35 GMT 08:35 PST
امریکی کانگرس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے تیار کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق اور افغانستان میں جاری فوجی کارروائیوں پر ابتدائی اندازوں سے دو گنا رقم خرچ ہو چکی ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ افغانستان اور عراق میں فوج کشی پر اب تک ڈیڑھ کھرب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ ابتدائی طور پر حکومت نے ان کارروائیوں کے لیے آٹھ سو چار ارب ڈالر مختص کیئے تھے۔
اس رپورٹ کے مطابق اس جنگ کی وجہ سے گزشتہ چھ برسوں میں اوسطً چار افراد پر مشتمل ایک امریکی خاندان کو بیس ہزار نوسو ڈالر خرچہ برداشت کرنا پڑا ہے جو اگلے دس برس میں بڑھ کر چھیالیس ہزار چار سو ڈالر ہو جائے گا۔
امریکہ کے ایوانِ صدر وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈانا پرینو نے کہا کہ جس کمیٹی نے یہ رپورٹ پیش کی ہے اس کی جانبداری اور سیاسی جھکاؤ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان دونوں ملکوں میں جاری فوجی کارروائیوں پر اٹھنے والے اخراجات میں بہت سے ایسے اخراجات شامل ہیں جن کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل ہے اور جو نظر نہیں آتے۔
انہوں نے کہا کہ ان اخراجات میں جنگ میں زخمی ہونے والے فوجیوں کے علاج معالجے اور عالمی منڈی میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔