Friday, 02 November, 2007, 03:01 GMT 08:01 PST
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک ایک ایسے ادارے کا قیام کرنے کو تیار ہیں جو ایران کو یورینیم فراہم کرے گا۔
شہزادہ الفیصل نے جریدے مِڈل ایسٹ ایکانامِک ڈائجسٹ کو بتایا کہ اس منصوبے کے ذریعے مغرب کے ساتھ ایران کے ایٹمی تنازعے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران اس منصوبے پر غور کر رہا ہے تاہم اس میں امریکہ میں ملوث نہیں ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار پال رینالڈز کا کہنا ہے کہ اس پر شک ہے کہ یہ منصوبہ آگے بڑھے گا بھی یا نہیں۔
خلیجی ممالک کے اس منصوبے کی طرح ہی دسمبر 2005 میں روس نے ایک تجویز پیش کی تھی جس پر ماسکو اور تہران کے درمیان ابتدائی طور پر مثبت بات چیت ہوئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔
سعودی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایران کے لیے نیا منصوبہ چھ خلیجی ممالک بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ہے جو گلف کوآپریشن کونسل کے ممبر ہیں۔
انہوں نے بتایا: ’ہم نے ایک تجویز پیش کی ہے جس کے ذریعے ایک کنسورٹیئم قائم کیا جائے گا جس سے مشرق وسطیٰ کے ممالک افزودہ یورینیم حاصل کرسکیں گے۔‘
شہزادہ سعود الفیصل نے اس تجویز کا ذکر مِڈل ایسٹ ایکانامِک ڈائجسٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ وہ سعودی عرب کے بادشاہ شاہ عبداللہ کے ساتھ لندن کے دورے پر ہیں۔
سعود الفیصل نے کہا کہ نئے منصوبے کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں ایٹمی اسلحے کی دوڑ روکی جاسکے گی۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران ایٹمی اسلحہ بنا رہا ہے۔