Thursday, 01 November, 2007, 00:44 GMT 05:44 PST
واشنگٹن میں سفارتکاروں کے ایک اجلاس کے شرکا نے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے کہ انہیں اگلے برس بغداد اور عراق کے دوسرے شہروں میں امریکی سفارت خانوں میں خالی ہونے والے اڑتالیس عہدوں کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
ان سفارتکاروں کو دس دن کا وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ فیصلہ کریں کہ انہیں عراق میں ذمہ داریاں سنبھالنا ہیں یا نہیں۔ اگر رضاکارانہ طور پر سفارتکار سامنے نہ آئے تو پھر انہیں جبراً عراق میں امریکی سفارتحانوں میں تعینات کر دیا جائے گا اور انکار کرنے والوں کو ملازمت سے برخواست کر دیا جائےگا۔ البتہے طبی بنیادوں پر کوئی خاص ذاتی وجہ سے انکار کرنے والوں کی ملازمت بچ جائے گی۔
اجلاس میں موجود ایک سفارتکار نے کہا کہ جنگ زدہ ملک میں زبردستی تعیناتی کا مطلب ہے کہ آپ ایک سفارتکار کو ایک لحاظ سے سزائے موت سنا رہے ہیں۔
ان سفارتکاروں نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ انہیں اس منصوبے کا علم میڈیا کے ذریعے ہوا ہے۔
پچھلے چند ماہ سے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس اس بات کا اشارہ دے رہی تھیں کہ سفارتکاروں کی طرف سے عراق میں رضاکارانہ طور پر تعیناتی کے لیے پیش کش نہ ہونے کی وجہ سے جبراً تعیناتی کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ مگر سفارتکاروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان میں جرات مند سفارتکاروں کی کمی نہیں ہے البتہ عراق میں سفارت خانے میں بڑھتے ہوئے کام کی وجہ سے عملے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔