Wednesday, 31 October, 2007, 02:34 GMT 07:34 PST
امریکہ نے انکشاف کیا ہے کہ سن دو ہزار سات کے دوران اس نے ساڑھے تینتالیس ارب ڈالر انٹیلیجنس پر خرچ کیے ہیں۔ دس سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ میں اس طرح کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ رقم سولہ مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں نے خرچ کی۔ یہ رقم سن انیس سو ستانوے اور اٹھانوے میں خرچ کی گئی رقم سے دوگنی ہے۔
امریکہ میں انٹیلیجنس کے محکمے کے سربراہ مائیک مککونل نے یہ کہتے ہوئے اخراجات کی تفصیل بتانے سے انکار کر دیا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ بجٹ کے بارے معلومات گزشتہ سال کانگریس سے منظور ہونے والے ایک قانون کی پاسداری کرتے ہوئے فراہم کی گئی ہیں۔
نئے قانون کے تحت خفیہ اداروں کے کل اخراجات مالی سال کے اختتام کے تیس روز بعد منظر عام پر لانا لازمی ہے۔ تاہم یہ معلومات کے یہ رقم کون اور کیسے خرچ کرتا ہے خفیہ ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق انٹیلیجنس ایجنسیوں کے بجٹ کا ایک حصہ ایک لاکھ کے قریب اہلکاروں کی تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے جن میں جاسوس اور تجزیہ نگار شامل ہیں۔
انٹیلیجنس کے بجٹ میں سی آئی اے، محکمۂ دفاع کی اینٹیلیجنس ایجنسی، نیشنل سکیورمی ایجنسی اور ایف بی آئی اور امریکی ریاستوں اور وزارت خزانہ کے لیے کام کرنے والی ایجنسیوں کے اخراجات شامل ہیں۔ اس میں امریکی فوج کے خفیہ معلومات جمع کرنے پر ہونے والے اخراجات شامل نہیں ہیں۔