http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 30 October, 2007, 02:21 GMT 07:21 PST

غزہ کو تیل کی بندش پر تشویش

غزہ کے لیے ڈیزل اور پٹرول کی سپلائی میں اسرائیل نے اتوار سے کمی کی جو کارروائی شروع کی ہے اس پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ یہ بات ہرگز قبول نہیں کی جاسکتی کہ غزہ کے پورے علاقے کی آبادی کو سزا دی جائے۔

غزہ سے اسرائیلی علاقے پر راکٹ حملوں کی وجہ سےاسرائیل گزشتہ مہینے اسے دشمن علاقہ قرار دے چکا ہے۔ اسرائیلی اٹارنی جنرل نے اس تخفیف کی منظوری دی ہے لیکن انہوں نے بجلی میں کمی کو منظور نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک یہ اندازہ نہیں لگا لیا جاتا کہ اس کا اثر عام شہریوں پر کیا پڑے گا اس وقت تک بجلی نہیں کاٹی جائے گی۔

حقوق انسانی کے گروپ کہتے ہیں کہ غزہ کی بجلی کی سپلائی بند کرنا غیر قانونی ہوگا۔

یورپی یونین نے بھی غزہ کو تیل کی سپلائی میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے تیل کی کمی حماس کے خلاف اس کے آخری گڑھ میں دباؤ بڑھانے کا پر امن طریقہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے ایک بیان میں فلسطینی عسکریت پسندوں سے کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف راکٹوں کے حملے بند کر دیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں غزہ کی پوری آبادی کو متاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی کمی غزہ کی چودہ لاکھ کی آبادی کی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔