Monday, 29 October, 2007, 12:16 GMT 17:16 PST
سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے برطانیہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ عالمی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بات برطانیہ کے دورے سے قبل بی بی سی کے انٹرویو میں کہی۔
شاہ عبداللہ پیر کی دوپہر برطانیہ پہنچ رہے ہیں تاہم ان کے دورے کا باقاعدہ آغاز منگل کو ہوگا۔ یہ بیس برس میں کسی سعودی حکمران کا برطانیہ کا پہلا دورہ ہے۔
انٹرویو میں شاہ عبداللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی دہشتگردی کے خاتمے میں بیس سے تیس برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں برطانیہ جیسے ممالک کو مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔
سعودی شاہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ سعودی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتا تو دہشت گردوں کے حملے روکے جا سکتے تھے۔ برطانوی حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں اور سلامتی کے امور کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کو بھی تحقیق کے بعد ایسے شواہد نہیں ملے کہ سعودی حکام نے ایسی اطلاعات فراہم کی تھیں جن سے سات جولائی کے حملے رک سکتے تھے۔
ترجمان کے ذریعے بات کرتے ہوئے شاہ عبداللہ نے کہا کہ ان کے نزدیک زیادہ تر ممالک اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں اور’بدقسمتی سے برطانیہ ان میں سے ایک ہے‘۔
ادھر سعودی بادشاہ کے دورۂ برطانیہ کے موقع پر سعودی سفارتخانے کے باہر ایک مظاہرے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے جس کا موضوع سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال ہوگا۔
لبرل ڈیموکریٹ رہنما ونس کیبل نے شاہ عبداللہ کے دورے کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس بائیکاٹ کی دو اہم وجوہات الیمامہ اسلحہ سودا اور سعودی عرب میں حقوِق انسانی کی صورتحال ہے۔
حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن سے کہا ہے کہ وہ سعودی شاہ کو بتا دیں کہ حقوقِ انسانی کے حوالے سے ان کے ملک کا ریکارڈ ’بالکل قابلِ قبول نہیں‘۔