Sunday, 28 October, 2007, 05:07 GMT 10:07 PST
امریکہ کے کئی شہروں میں دسیوں ہزار افراد نےعراق پر امریکی حملے کے پانچ سال پورے ہونے کے موقع پر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
نیویارک، شکاگو اور سان فرانسسکو کے علاوہ جہاں بہت بڑی تعداد میں امریکی عوام نے احتجاجی ریلیوں میں حصہ لیا امریکہ کے درجنوں شہروں میں ایسے مظاہرے کیئے گئے۔
ان احتجاجی مظاہروں میں عام شہریوں کے علاوہ عراق جنگ میں حصہ لینے والے امریکی فوجیوں کے رشتہ دار بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور انہوں نے امریکی کانگرس سے عراق جنگ کے لیے مختص کئے جانے والی رقم کو روکنے کا مطالبہ کیا۔
امریکی ریاست اوہایو میں مظاہرہ کا انعقاد کرنے والے مائک کرانو نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ملک بھر میں امریکی عوام چاہتے ہیں کہ عراق پر قبضے کو ختم کیا جائے اور اس قبضے پر خرچ ہونے والی رقم کو دوسرے کام پر خرچ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کانگرس اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس جنگ کے خلاف کھڑی ہو جائے اور جنگ کے لیے فنڈز کی فراہمی روک دے۔
ان مظاہروں کا اہتمام کرنے والے ایک رابط کار لیزل کیسلن نے کہا کہ نصف کھرب سے زیادہ رقم اس جنگ پر خرچ کی جارہی ہے جس کو تعلیم اور ہاوسنگ جیسے شعبوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
نیویارک میں مظاہرین یونین سکوائر میں جمع ہوئے جہاں سے انہوں نے فولی سکوائر کی طرف مارچ کیا۔ فولی سکوائر میں عدالتیں اور سرکاری دفتر قائم ہیں۔
اس احتجاج کے دوران عراق میں مرنے والوں کے لیے دو منٹ کی خاموشی بھی احتیار کی گئی۔ شکاگو میں دس ہزار کے قریب افراد نے عراق جنگ کے خلاف مظاہرے میں شرکت کی جبکہ سان فرانسسکو میں احتجاج میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔