Friday, 19 October, 2007, 13:04 GMT 18:04 PST
ڈالر کی قدر میں کمی اور مشرقی ترکی میں تناؤ کی وجہ سے تیل کی فی بیرل پہلی مرتبہ قیمت نوے ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
نیویارک میں امریکی لائٹ کروڈ آئل کی قیمت نے جمعرات کی شام کے کاروباری سیشن میں نوے اعشاریہ صفر دو ڈالر فی بیرل کی حد کو چھوا۔ تاہم جمعہ کو یورپ میں ابتدائی کاروبار کے دوران یہ قیمت نواسی اعشاریہ تین نو پر آ گئی۔تاہم لندن میں یہ قیمت تیس سینٹ کمی کے ساتھ چوراسی اعشاریہ تین صفر رہی۔
امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کے بعد سرمایہ کاروں کے لیے تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری میں کشش پیدا ہوئی ہے جبکہ ترکی کی جانب سے عراق میں کردوں کے خلاف کارروائی کے امکان سے بھی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ’اوپیک‘ نے ایسے اشارے دیے ہیں کہ وہ قیمتوں میں کمی کے لیے تیل کی پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہے۔ نائجیریا کے وزیرِ تیل اوڈین اجوموگوبیا کا کہنا ہے کہ اوپیک کے ممبر ممالک کا اجلاس مقررہ تاریخ سے ایک ہفتے قبل سترہ نومبر کو بلایا جا سکتاہے۔
چین اور بھارت جیسی تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں اور تیل پیدا کرنے والے ممالک میں عدم استحکام کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں سنہ 2002 سے چار گنا اضافہ ہو چکا ہے۔