Monday, 15 October, 2007, 04:16 GMT 09:16 PST
روس میں حکام نے بتایا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن کو اس ہفتے ان کے ایران کے دورے کے دوران قتل کرنے کے ممکنہ منصوبے کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے۔ صدر پوتن جوزف سٹالن کے بعد ایران جانے والے پہلے روسی صدر ہوں گے۔ سٹالن نے انیس سو تینتالیس میں اتحادی قوتوں کے سربراہی اجلاس میں حصہ لینے کے لیے ایران کا دورہ کیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس نے روس کے خفیہ اداروں میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران میں خودکش حملہ آوروں کا ایک گروہ صدر پوتن کو ہلاک کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے ان اطلاعات کو قطعاً بے بنیاد قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خبریں ’دشمنوں‘ کی طرف سے روس اور ایران کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش ہے۔
کریملن میں ایک ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر پوتن کا دورے ملتوی کرنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔
ایران کے دورے کے دوران صدر پوتن بحیرہ کیسپین کے ممالک کے ایک سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔
صدر پوتن جرمنی کے دورے پر ہیں جہاں سے وہ پیر کی رات کو تہران روانہ ہو جائیں گے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہیں اور روس ایران کے بشہر جوہری پلانٹ کی تعمیر میں بھی مدد کر رہا ہے۔