Monday, 15 October, 2007, 11:38 GMT 16:38 PST
مائیکل برسٹو
بی بی سی نیوز، بیجنگ
چین کے صدر ہو جنتاؤ نے کانگریس سے اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہو گئی ہے۔
صدر ہو جنتاؤ کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ ہیں۔ کانگریس کے سترہویں افتتاحی اجلاس سے خطاب کے دوران چینی صدر نے بےجا اصراف اور بدعنوانی میں ملوث افسران پر تنقید کی۔ ان کی جانب سے حالیہ تنقید پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں پارٹی کی کارکردگی کے جائزے کے بعد سامنے آئی ہے۔
ہفتے بھر جاری رہنے والا کانگریس کا یہ اجلاس ہر پانچ سال بعد پارٹی کی مستقبل سے متعلق پالیسیوں کا تعین کرنے کی غرض سے منعقد کیا جاتا ہے۔
صدر ہوجنتاؤ کا کہنا تھا کہ ’کامیابیوں کے ساتھ ہمیں اس بات سے بھی اچھی طرح باخبر رہنا چاہیےکہ لوگوں کی ہم سے وابسطہ توقعات ابھی تک پوری نہیں ہو پائی ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ عام لوگوں کو جو مشکلات درپیش ہیں ان میں بیروزگاری، ہاؤسنگ، سماجی تحفظ اور تعلیم جیسے مسائل شامل ہیں۔
انہوں نے اجلاس کے دو ہزار سے زائد شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پارٹی کے اراکین کا ایک چھوٹا حصہ ایماندار اور راست باز نہیں ہے اور (ان افراد کی) بےجا شاہ خرچیوں اور نامناسب رویے کی وجہ سے لوگوں کو ان مسائل کا سامنا ہے‘۔
یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ہوجنتاؤ اجلاس کے دوران اپنا جانشین نامزد کریں گے جو 2012 میں ان کی مدت صدارت کے اختتام پر اقتدار سنبھالے گا۔ اس ضمن میں تمام لوگوں کی نگاہیں ریجنل پارٹی چیف پچاس سالہ لی کیکیانگ پر لگی ہوئی ہیں۔
پارٹی کی کارکردگی پر تنقید کرنے کے علاوہ صدر ہوجنتاؤ نے مستقبل کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔ پارٹی کے مستقبل کے اہم اہداف میں سے ایک ملک میں 2020 تک ’اعتدال پسند خوشحال معاشرے‘ کا قیام ہے۔
علاوہ ازیں مسٹر ہوجنتاؤ نے تائیوان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چین سے علیحدگی کے لیے ’تائیوان کی آزادی‘ کی خواہشمند قوتیں اپنی کوششیں
تیز کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ تائیوان ایک خودمختار جزیرہ ہے تاہم بیجنگ حکومت اسے چین کا حصہ تصور کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ تائیوان کو کسی بھی نام یا کسی بھی طرح مادرِ وطن سے علیحدہ کردے‘۔
علاوہ ازیں اتوار کو کانگریس کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ چین کبھی بھی مغربی طرزِ جمہوریت نہیں اپنائے گا۔