Thursday, 11 October, 2007, 03:07 GMT 08:07 PST
فلسطینی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مخالف تنظیم الفتح سے مفاہمتی بات چیت کے لیے تیار ہے۔
حماس کی ویب سائٹ پر اسماعیل ہنیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ جون میں الفتح سے چھینا گیا غزہ کا کنٹرول بھی واپس کرنے کو تیار ہو سکتے ہیں۔
بیان کے مطابق اسماعیل ہنیہ کا کہنا ہے کہ اس ساحلی علاقے پر ان کی تنظیم کا قبضہ ’عارضی‘ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ فلسطینی مذاکرات کے حوالے سے ہم الفتح کے ساتھ کسی بھی عرب ملک کے دارالحکومت میں بات چیت کے لیے تیار ہیں‘۔
حماس کے رہنما کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات عید کے بعد ہو سکتی ہے تاہم الفتح کے ایک سینیئر افسر احمد عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ کسی قسم کے مذاکرات کو کوئی منصوبہ نہیں اور حماس عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا’ ہمیں اس قسم کے کسی مذاکرات کے بارے میں خبر نہیں‘۔
اسماعیل ہنیہ کے ایک مشیر احمد یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس ہمیشہ سے الفتح کے ساتھ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی خواہاں رہی ہے۔’ ہم ہمیشہ سے کہتے رہے ہیں کہ ہم مذاکرات کی میز پر معاملات کے بارے میں بات کرنے کو تیار ہیں اور ہم اس بات پر تیار ہیں کہ مصر یا سعودی عرب جیسے ملک اس قسم کے مذاکرات کا انتظام کریں‘۔
احمد یوسف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی تنظیم فلسطینی ریاست کے اندر ایک اور ریاست قائم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔