Monday, 08 October, 2007, 08:00 GMT 13:00 PST
عراقی حکام نےکہا ہے کہ گزشتہ ماہ فائرنگ کے ایک واقعے میں جس میں امریکی فرم بلیک واٹر ملوث تھی، اب تک لگائے گئے اندازوں سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ اس میں گیارہ عراقی ہلاک ہوئے تھے لیکن اب حکومت نے کہا ہے کہ بلیک واٹر فرم کے گارڈوں کی فائرنگ سے سترہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ عراقی تفتیش کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلیک واٹر فرم کے اہلکاروں پر فائرنگ نہیں کی گئی تھی۔
’بلاجواز فائرنگ‘ |
عراقی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ بلیک واٹر فرم کی کارروائی دانستہ قتل کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ واقعہ سولہ ستمبر کو بغداد میں پیش آیا تھا جس میں تئیس افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم نور المالکی کی طرف سے قائم جانے والی تفتیشی کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ بلیک واٹر فرم کا کارواں براہ راست یا بالواسطہ کسی حملے کی زد میں آیا تھا۔ ’اس پر ایک پتھر بھی نہیں پھینکا گیا۔‘
بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس نے کہا کہ ان کے عملے نے اس سفارتی کارواں پر حملے کے بعد دفاع میں فائرنگ کی تھی جو عملے کی حفاظت میں جا رہا تھا۔
بلیک واٹر امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے عراق میں وزارت کے عملے اور دورے پر آنے والے دیگر حکام اور کاروباری افراد کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک اہم فرم ہے۔
بی بی سی کی ایک نامہ نگار نے کہا کہ عراق میں تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داریاں نجی کمپنیوں کو دینا امریکہ اور عراق دونوں میں سیاسی طور پر ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔