Thursday, 04 October, 2007, 02:16 GMT 07:16 PST
امریکی صدر جارج بش نے ایک عالمی سمجھوتے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت جنوبی کوریا اپنا ایٹمی پروگرام اس سال کے آخر تک مکمل طور پر بند کردے گا۔
یہ سمجھوتہ اختتام ہفتہ پر امریکہ، روس، جنوبی کوریا، چین، جاپان اور شمالی کوریا کے درمیان چھ فریقی مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔
صدر جارج بش نے کہا کہ اس سمجھوتے سے کوریائی خطے کا پرامن مستقبل یقینی ہوجائے گا۔ شمالی کوریا یونگ بیون میں اپنا ایٹمی ری ایکٹر اس سمجھوتے کے تحت اس سال کے آخر تک بند کرنے کو تیار ہوگیا ہے۔
آئندہ دو ہفتوں میں ایٹمی اسلحوں کے ماہرین امریکہ کی سربراہی میں شمالی کوریا جائیں گے تاکہ اس ایٹمی ری ایکٹر کو بند کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی جائیں۔
چین کے نائب وزیر خارجہ وُو داویئ نے اس سمجھوتے کا اعلان کیا اور یہ بھی بتایا کہ شمالی کوریا اپنے ایٹمی پروگراموں کے بارے میں ’مکمل اور صحیح‘ تفصیلات بتائے گا۔
امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری کرِسٹوفر ہِل نے کہا ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ مل کر اس بات کے لیے کام کرے گا کہ اس کو اس امریکی فہرست سے ہٹایا جاسکے جن میں ان ممالک کے نام ہیں جو دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔
اس سمجھوتے کے پہلے مرحلے میں شمالی کوریا نے اپنا یونگ بیون میں واقع ایٹمی ری ایکٹر بند کردیا تھا اور اس سے متعلق چار دیگر تنصیبات بھی بند کردی تھی۔