Thursday, 04 October, 2007, 03:07 GMT 08:07 PST
محسن عباس
ٹورانٹو، کینیڈا
آج کل کینیڈا کی ایک سو پچاس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان خواتین کے برقعہ یا نقاب پہن کر ووٹ ڈالنے کے مسئلہ پر بحث چل رہی ہے۔ صوبہ انٹاریو میں دس اکتوبر کو منعقد ہونے والے صوبائی انتخابات سے قبل نقاب کے مسئلے کو چھیڑا گیا ہے جس کے اگلے ہفتے ہونے والے انتخابات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
کینیڈین وزیراعظم سٹیفن ہارپر اور الیکشن کمیشن کینیڈا کے مابیین گزشتہ چند ہفتوں سے ہونے والی بیان بازی نےاس معاملے کو مزید ہوا اس وقت دی جب کینیڈین وزیر اعظم نے اپنے دورۂ آسٹریلیا پر ان صوبائی انتخابات کے تناظر میں الیکشن کمیشن آف کینیڈا پر کڑی تنقید کی۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ الیکشن کمیشن کو برقعہ پوش خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کی کیا ضرورت تھی۔اس کے جواب میں الیکشن کمیشن کے سربراہ مارک میرانڈ نے کہا کہ اس معاملے میں حکومت کوئی پابندی حائل نہیں کرسکتی کیونکہ جب پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن آف کینیڈا نے کچھ عرصہ قبل سفارشات طلب کی تھی تو اس وقت پارلیمنٹ نے کوئی واضح ہدایات جاری نہیں کی۔
الیکشن کمیشن کمشنر مارک میرانڈ نے باپردہ مسلم خواتین کی شناخت کے مسئلے پر کسی قسم کے حکومتی دباؤ اور پارلیمنٹ کمیٹی کا مشورہ ماننے سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا ہے کہ کینیڈا کی مسلمان شہری خواتین پردے میں رہتے ہوئے ووٹ ڈال سکتی ہیں کیونکہ کینیڈا میں انتخابی قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں۔
ان قوانین کے مطابق ووٹر اپنی شناخت باتصویر سرکاری دستاویزات پیش کر کے کر سکتا ہے اور اگر اس کے پاس تصویری شناخت نہیں ہے تو پھر بھی وہ اپنے پتہ کی تصدیق کرتے ہوئے بیان حلفی اور ایک ضامن کے حلفی بیان دینے پر ووٹ ڈالنے کا مجاز ہے۔ الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ قانون میں یہ گنجائش اس لئے رکھی گئی ہے کہ کوئی بھی شہری ووٹ کے حق سے محروم نہ رہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم سمیت دیگر سیاست دان الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ باپردہ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکے مگر الیکشن کمیشن کسی بھی اقلیت کے ساتھ ایسا سلوک کرنا غیرقانونی قرار دیتا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے فیصلے کے لئے پارلیمنٹ قوانین کی تبدیلی کا حق رکھتی ہے۔
مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی والے صوبےاونٹاریو کے پریمئیر ڈالٹن مگنٹی کی ترجمان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے ہفتے منعقد ہونے والےان انتخابات میں مسلمان پردہ دار خواتین کے نقاب اٹھانے کی شرط پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا اور انہیں برقعے اور نقاب کے ساتھ ہی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی مکمل اجازت ہے۔
جبکہ موجودہ وزیراعظم اسٹیفن ہارپر کا تعلق کنزرویٹو حکمرا ن جماعت سے ہے جنہو ں نے نقاب پہن کر ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے پر شدید تنقید کی ہے اور کہا کہ قانون کی اس طرح کھلم کھلا مخالفت پارلیمنٹ کے اس قانون کی توہین ہے جس کے تحت ووٹرز کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ووٹ ڈالتے وقت اپنی شناخت کے لئے تصویری دستاویز پیش کریں۔
اس قانون میں انتخابی افسر پر لازم ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کرے کہ وہ ہر ووٹر کاتصویری شناختی کارڈ اور اسکے چہرے سے مطابقت کرتا ہے جسکے بعد ہی اسے ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔ ایک موقف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جو خواتین برقعہ اور نقاب اتارنا نہیں چاہتیں انہیں یہ سہولت دی جائے کہ وہ ایک حلف نامہ جمع کروا کے یہ تصدیق کر واسکتی ہیں کہ وہی مذکورہ خاتون ہیں جس کی فوٹو آئی ڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
تاہم وزیر اعظم اس بات کی بھی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ قانون پر پوری طرح سے عمل کیا جانا چاہیے۔ صوبے اونٹاریو کی کنزرویٹو پارٹی کے رہنما جان ٹوری کا موقف ہے کہ انتخابی عملے کے معاملات میں سیاستدانوں کو دخل اندازی نہیں کرنا چاہیے اور انہیں ان کا کام قانون کے مطابق انجام دینے کی اجازت ہونی چاہیے اور اگر اونٹاریو الیکشن کا قانون یہ کہتا ہے کہ مسلم خواتین چہرہ دکھائیں تو انہیں دکھانا چاہیے۔
این ڈی پی یعنی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ہاورڈ ہیمپٹن نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ الیکشن کا عملہ ہر طرح کے فراڈ سے نمٹنے کے لئے تیار ہے اور وہ صاف اور شفاف طریقۂ کار اپنائے گا جس سے کہ انتخابی عمل کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہ رہے۔
کینیڈا سے مسلم کینیڈین کانگریس کی رہنما فرزانہ حسن نے کہا ہے کہ برقعہ اور نقاب کو اسلامی ملبوس کے طور پر پیش کرنا ایک ’بےہودہ مذاق‘ ہے۔ انکے بقول قرآن میں ایسا کوئی ذکر نہیں موجود جس میں یہ کہا گیا ہو کہ مسلم خواتین اپنے چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سعودی معاشرے کی ثقافت ضرور ہے لیکن اسے اسلامی قانون کے طور پر پیش کرنا انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل صاف و شفاف بنانے کے لئے جو بھی ضروری قوائد و ضوابط ہیں ان پر عمل کیا جانا چاہیے۔
کینیڈین کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ووٹ ڈالتے ہوئے چہرہ دکھانے کی شرط کا اطلاق مسلمان عورتوں کی ایک چھوٹی تعداد پر ہوگا۔