Monday, 01 October, 2007, 04:29 GMT 09:29 PST
برما کے دورے پر آنے والے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ابراہمیم گمباری پیر کو ملک کے فوجی حکمرانوں سے ملاقات کی کوششیں کر رہے ہیں۔
رنگون کی سڑکوں پر سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار بڑی تعداد میں تعینات ہیں تاکہ نئے جمہوریت نواز مظاہرے نہ ہونے دیے جا سکیں۔
حالیہ دو ہفتوں کے دوران رنگون کی سڑکوں پر زبردست مظاہرے ہوئے ہیں لیکن اب مظاہرین کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے اور بدھ بھِکشوؤں کو ان کی عبادت گاہوں سے باہر نہیں نکلنے دیا جارہا ہے۔
رنگون میں موجود ایک نامہ نگار کے مطابق جنہوں نے سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ہے، یہ بتایا کہ سڑکوں پر فوجیوں کی موجودگی سے عوام اتنے خوفزدہ ہیں کہ وہ کچھ کرنے سے خوفزدہ ہیں۔
برما کی حکومت کے مطابق گزشتہ ہفتے مظاہرین پر کارروائی کے دوران دس لوگ مارے گئے تھے۔ تاہم مظاہرین اور برما میں موجود سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں کہیں زیادہ ہیں۔
اقوا متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوشش ہے کہ فوجی حکومت کے خلاف سڑکوں پر اترنے والے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کا خاتمہ ہو۔ ابراہیم گمباری نے اتوار کے روز کچھ فوجی رہنماؤں سے ملاقات کی تھی اور پیر کو بھی مزید ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
اتوار کو ان کی ملاقات برما کے سب سے بڑے فوجی رہنما تھان شوے یا ان کے نائب مونگ آیے سے نہ ہوسکی تھی۔
ابراہیم گمباری نے رنگون میں اتوار کے روز حزب اختلاف کی زیر حراست رہنماء آنگ سان سوچی سے ملاقات کی تھی۔ آن سان سوچی کی گزشتہ دس مہینوں میں کسی غیرملکی سے یہ پہلی ملاقات بتائی گئی ہے۔
آنگ سان سوچی بدستور اپنے گھر میں نظر بند ہیں لیکن اتوار کے روز ابراہیم گمباری سے ملاقات کے لیے اُنہیں حکومت کے ایک گیسٹ ہاؤس میں عارضی طور پر لایا گیا تھا۔
حالیہ دنوں میں رنگون اور برما کے دیگر شہروں میں بدھ بھِکشوؤں کی سربراہی میں فوجی حکومت کے خلاف بدستور مظاہرے ہوئے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک بھی ہوگئے ہیں۔ یہ احتجاج اگست میں حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتیں دگنی کرنے کے فیصلے کے بعد شروع ہوئے جو برما جیسے غریب ملک کے عوام کے لیے ایک بڑا جھٹکا تھے۔
ابتدا میں جمہوریت حامی کارکنوں نے اس احتجاج کو چلایا لیکن ایسے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پانچ ستمبر کو ایک پر امن ریلی میں حکومت کی جانب سے طاقت کا استعمال کرنے پر بدھ بھکشوؤں نے بھی احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔