Sunday, 30 September, 2007, 09:44 GMT 14:44 PST
افغانستان میں طالبان کے ایک ترجمان نے صدر حامد کرزئی کی جانب سے مذاکرات کی ایک اور دعوت مسترد کر دی ہے۔
قاری یوسف احمدی کا کہنا ہے کہ جب تک افغان سرزمین پر غیرملکی فوج موجود ہے اس وقت تک افغان حکام سے کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان کسی قسم کے حکومتی عہدوں یا وزارتوں میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے سنیچر کو کہا تھا کہ اگر طالبان کو حکومت میں شریک کرنے سے ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔
حامد کرزئی کی جانب سے یہ بیان کابل میں ایک خود کش حملے میں تیس افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ طالبان رہنما ملا عمر اور جنگی سردار گلبدین حکمت یار سے رابطہ کر کے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ کیوں افغانستان کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ان دونوں افراد سے ذاتی طور پر ملنا چاہتے ہیں اور انہیں امن کے قیام کے لیے انہیں وزارتوں کی پیشکش بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ملک سے غیرملکی فوجوں کے انخلاء خارج از امکان قرار دیا تھا۔