http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 28 September, 2007, 18:33 GMT 23:33 PST

ایران پر پابندیوں کی قرارداد مؤخر

ایران کے متنارعہ جوہری پروگرام کی وجہ سے سخت پابندیوں کے نفاذ کا فیصلہ تاخیر کا شکار ہوگیا ہے اور چھ اہم عالمی طاقتیں اب نومبر میں مزید پابندیوں کے نفاذ کے حوالے سے فیصلہ کریں گی۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممالک اور جرمنی کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں کی نئی قرارداد کا مسودہ تیار کرنے سے قبل اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کی رپورٹوں کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔

امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ایران پر یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ وہ جوہری پروگرام کی آڑ میں ایٹمی ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے تاہم ایران اس الزام سے انکار کرتا رہا ہے اور اس کا موقف ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور ایک آزاد اور خودمختار ملک ہونے کے ناطے اسے یورینیم کی افزودگی کا حق حاصل ہے۔

نیویارک میں اجلاس کے بعد چھ عالمی طاقتوں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ وہ تاحال ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں لیکن وہ اس حوالے سے محمد البرادعی اور ہاویئر سولانہ کی رپورٹوں کا انتظار کریں گے۔

اجلاس کے بعدایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’ ہم نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیوں کی تیسری قرارداد کا متن تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اگر ڈاکٹر سولانہ اور ڈاکٹر البرادعی کی رپورٹوں میں ان کی کوششوں کے باوجود کوئی مثبت پہلو نہ ملا تو یہ نومبر میں قرارداد رائے شماری کے لیے پیش کی جائے گی‘۔

ادھر منگل کو بھی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ایک بار پھر پابندیوں کو’غیر قانونی‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر بحث کا ’خاتمہ‘ ہو چکا ہے اور اب یہ معاملہ آئی اے ای اے کے پاس ہے۔

آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان حال ہی میں ایک معاہدہ ہوا ہے جس میں ایران کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے معاملات کا حل تلاش کرنے کے لیے’ورک پلان پر اتفاق کیا گیا ہے۔