Monday, 24 September, 2007, 10:53 GMT 15:53 PST
برما میں حکومت کے خلاف بدھ بھکشوؤں اور شہریوں کےاب تک کے سب سے بڑے مظاہرے میں ہزاروںبھکشو سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پیر کو مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد کم از کم تیس ہزار ہے۔اتوار کو رنگون میں ہونے والے مارچ میں تقریباً بیس ہزار بدھ بھکشو اور خواتین بھکشوؤں نے مارچ کیا تھا جو گزشتہ بیس سالوں میں سب سے بڑا مارچ تھا۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صورت حال غیر یقینی طور پر تبدیل ہو رہی ہےاور ابھی تک حکمران غیر معمولی صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
برما میں بھکشوؤں کو مقدس تصور کیا جاتا ہے اور ان کے خلاف کسی طرح کی کارروائی ملک میں بڑی ہلچل پیدا کر سکتی ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اندیشے محسوس کیے جا رہے ہیں کہ کہیں 1988 کے حالات نہ دہرائے جائیں جب جمہوریت کے لیے کی جانے والی بغاوت کو کچلنے کے لیے فوجی کارروائی میں تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔
رنگون میں برطانوی سفارت کار مارک کیننگ کا کہنا ہے کہ برما کے رہنماؤں کو ناقابلِ تصورصورتِ حال کا سامنا ہے۔
سنیچر کوبھکشوؤں نے جمہوریت حامی رہنما آنگ سان سوچی کی حمایت میں مارچ کیا جو اپنے گھر میں نظر بند ہیں لیکن اتوار کو ان کے گھر تک لوگوں کی رسائی بھی بند کر دی گئی۔
اس احتجاج کی قیادت کرنے والی تنظیم الائنس آف آل برمیز بدھ مونکس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مظاہرے میں شامل ہوں ۔
جمعہ کو ایک بیان میں بھکشوؤں کے گروپ نے عہد کیا کہ وہ اس وقت تک اپنا مارچ جاری رکھیں گے جب تک ملک سے فوجی آمریت ختم نہیں ہو جاتی۔
بھکشوؤں کے اس احتجاج کو آٹھ دن ہو رہے ہیں۔یہ احتجاج گزشتہ ماہ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتیں دوگنی کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد شروع ہوئے جو برما جیسے غریب ملک کے عوام کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔
ابتدا میں جمہوریت حامی کارکنوں نے اس احتجاج کو چلایا لیکن ایسے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پانچ ستمبر کو ایک پر امن ریلی میں حکومت کی جانب سے طاقت کا استعمال کرنے پربھکشوؤں نے بھی احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔
امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ امریکہ صورتِ حال پرگہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔