http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 23 September, 2007, 12:10 GMT 17:10 PST

جنتا مخالف مظاہروں میں راہبائیں

برما میں فوجی حکومت مخالف مظاہروں کے ساتویں دن تقریباً پانچ ہزار بُدھوں کے ساتھ اب راہبائیں بھی شامل ہو گئی ہیں۔

سفید کپڑوں میں ملبوس تقریباً ایک سو پچاس راہباؤں نے رنگون کی گلیوں میں نکالی گئی ریلی میں حصہ لیا۔ ریلی کو دیکھنے کے لیے دس ہزار کے قریب لوگ موجود تھے جو بودھوؤں اور راہباؤں کے لیے نعرے لگا رہے تھے۔

ایک دن قبل بودھ بھکشو حزبِ اختلاف کی نظر بند رہنما آنگ ساں سوچی کے گھر کے سامنے اکھٹے ہوئے تھے۔

حزبِ اختلاف کی طرف سے انیس سو اٹھاسی کی فوجی جرنیلوں کے خلاف چلائی گئی تحریک کے بعد یہ سب سے بڑا مظاہرہ کہا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے جنوبی ایشیا کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کے مطابق اب مظاہروں میں شدت آ رہی ہے کیونکہ بُدھوں نے عوام کو کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ بھی مظاہروں میں شامل ہوں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے عوام سے کہا تھا کہ وہ ان سے دور رہیں۔

نامہ نگار کے مطابق سکیورٹی فورسز کو ابھی سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کیا کریں اور یہ کہنا مشکل ہو گا کہ آگے کیا ہو گا۔

سنیچر کو اشکبار سوچی بُدھوں کے ساتھ دعامانگنے اپنے گھر سے باہر نکلیں تھیں۔ اس موقع پر سکیورٹی فورسز نے بُدھوں کو رکاوٹوں کے درمیان سے سوچی کے گھر کے قریب آنے کے اجازت دے دی تھی۔ سوچی اس گھر میں دو ہزار تین سے نظر بند ہیں۔

تاہم اتوار کو وہ رکاوٹیں واپس لگا دی گئیں اور سیکیورٹی بھی سخت کر دی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق جب بودھ بھکشو اور راہبائیں شویدگون پیگوڈا سے باہر نکلے تو ہجوم نے ان کے گرد حفاظتی انسانی زنجیر بنا لی۔ کئی مظاہرین سوچی کی رہائی کے لیے نعرے لگا رہے تھے۔

امن کا نوبل انعام پانے والی آنگ ساں سوچی نے گزشتہ اٹھارہ سالوں میں سے گیارہ سال زیرِ حراست گزارے ہیں۔

ان کی جماعت نے سال 1990 کے عام انتخابات جیتے تھے لیکن فوج نے انہیں کالعدم قرار دیا تھا۔

تازہ حکومت مخالف ریلیاں گزشتہ ماہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد شروع ہوئی تھیں۔