Saturday, 22 September, 2007, 07:59 GMT 12:59 PST
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے خبردار کیا ہے کہ کوئی ملک ایران پر حملہ کرنے سے باز رہے۔
تہران میں فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ایران کی مسلح افواج نا صرف اپنے دفاع کے حوالے سے چوکس ہیں بلکہ ان کے ملک پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھ سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں آئے گا‘۔
ایران کے صدر نے (امریکہ اور اس کے اتحادیوں) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں مشرق وسطیٰ میں ایک قابض قرار دیا اور ان کا کہنا تھا کہ’ وہ (امریکہ اور اس کے اتحادی) اپنی شکست تسلیم کرلیں اور امن کے استحکام کے لیے اپنے فوجی اس خطے سے نکال لیں‘۔
دوسری طرف ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کار اسرائیل کے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے اسرائیل کا دورہ کریں۔ ایران نے مغربی ممالک پر جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں دوغلے پن کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
یہ مطالبہ ایران کے وفد کی جانب سے ویانا میں بین الاقوامی جوہری ایجنسی کے سالانہ اجلاس کے دوران سامنے آیا ہے۔ ایران کے مطالبے کے جواب میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ جو لوگ اس کی تباہی کی بات کرتے ہیں ان کا کوئی اخلاقی معیار نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔
اسرائیل کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے تاہم اسرائیل نے اس بارے میں کبھی کھل کر تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
ایران کو اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے پابندیوں کا سامنا ہے جبکہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام توانائی کے حصول کے لیے ہے۔