Thursday, 20 September, 2007, 15:33 GMT 20:33 PST
فوجی حکومت کے خلاف تین روز سے جاری مظاہروں کے سلسلے میں سینکڑوں بدھ راہبوں نے برما کے سب سے مقّدس مندر کی طرف مارچ شروع کر دیا ہے۔
احتجاجی مظاہروں کے شروع ہونے کے بعد راہبوں کو پہلی مرتبہ شویڈاگون پگوڈا میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ شویڈاگون پگوڈا سابقہ دارالحکومت رنگون کا اہم ترین مقام ہے۔
بدھ کو سینکڑوں راہبوں نے یہاں پہنچنے کے لیے سِتوے، منڈالے اور رنگون کا پیدل سفر کیا۔
گزشتہ دنوں اشیائے صرف کی قیمتوں کے اچانک بڑھنے پر عوام نے ایک ریلی نکالی تھی جسے حکومت نے بذریعہ تشّدد منتشر کیا تھا۔راہبوں کے اس مارچ کا مقصد یہ ہے کہ حکومت عوام سےاس واقعے کی معافی مانگے۔
پچھلے مہینے تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے باعث پورے ملک میں عام استعمال کی چیزوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھی تھیں جس کے بعد پورے ملک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ پھیل گیا تھا۔
پگوڈا کو اس موقع پر سادہ لباس میں درجنوں سکیورٹی اہلکاروں نے گھیر رکھا تھا جبکہ پولیس ٹرکوں میں کسی بھی طرح کی انتہائی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے موجود تھی۔
رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق اندر جانے کے بعد راہبوں نے اپنی مذہبی رسومات ادا کیں جس کے بعد انہوں نے شہر میں واقع ایک دوسرے پگوڈا کی طرف مارچ شروع کردیا۔
بدھ راہبوں نے اپنے چار ساتھی راہبوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے جنہیں منگل کو گرفتار کیاگیا تھا۔ یہ چار راہب منگل کو اس وقت گرفتار کیے گئے جب سکیورٹی اہلکار عوام کو بذریعہ تشّدد منتشر کررہے تھے۔
برما کی بدھ راہب تنظیم کے مقامی گروہ نے تمام ملک کے راہبوں سے کہا ہے کہ وہ فوجی حکومت سے کسی بھی قسم کی امداد قبول نہ کریں۔
بی بی سی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ راہبوں کا جاری احتجاج حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
بدھ راہبوں کو برما کے معاشرے میں عزّت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انیس سو اٹھّاسی میں بڑی سطح پر ہونے والے مظاہروں میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان مظاہروں کو فوجی حکومت نے طاقت کا استعمال کر تے ہوئے دبا دیا تھا۔