Tuesday, 18 September, 2007, 03:12 GMT 08:12 PST
عراق کے وزیرِ اعظم نور المالکی نے عراق میں امریکی اہلکاروں کی ذمہ دار بلیک واٹر نامی نجی سکیورٹی کمپنی کا لائسیسن منسوخ کر کے انہیں عراق سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ نہ صرف ایک امریکی کمپنی کو ملک سے نکال رہی ہے بلکہ اس کمپنی کے ملازمین کے جرائم کی تحقیق شروع کر رہی ہے۔
عراقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ بلیک واٹر سیکیورٹی کمپنی کے لائسنس کو منسوخ کیا جا رہا ہے اور اب وہ عراق میں کام نہیں کر سکتی۔ عراقی حکام نے یہ اقدم اتوار کو بغداد میں فائرنگ کے ایک واقعہ کے بعد کیا ہے جس میں بلیک واٹر کے اہلکار ملوث تھے اور جس میں آٹھ عراقی شہری مارے گئے تھے۔
عراقی وزات داخلہ کے مطابق بلیک واٹر سکیورٹی کمپنی کے تمام ملازمین کو اب ملک سے نکلنا ہوگا سوائے اُن افراد کے جو اتوار کے واقعے میں ملوث تھے۔
عراقی وزیر داخلہ کے مطابق ان افراد پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ اس سلسے میں امریکی وزیر خارجہ نے عراقی وزیر اعظم سے بھی بات کی ہے۔ دونوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیئں اور قصور واروں کو سزا ملنی چاہیئے۔
اطلاعات کے مطابق بلیک واٹر کا امریکی وزارتِ خارجہ سے 300 ملین ڈالر کا ٹھیکہ ہے جس میں اسے امریکی سفارتی عملے اور چیزوں کی حفاظت کرنا ہے۔