بیورو رپورٹ
بی بی سی اسلام آباد
حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم نے صدارتی الیکشن میں صدر جنرل پرویز مشرف کے کا غذات نامزدگی منظور ہونے کی صورت میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے اور نواز شریف کی جلاوطنی اور عدلیہ کے ساتھ ناانصافی کے خلاف اکیس ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے۔
اے پی ڈی ایم کا اجلاس اتوار کو صبح دس بجے سے شام تین بجے تک جاری رہا۔ اجلاس کے بعد تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے تمام حزب اختلاف کی طرف سے یہ فیصلہ سنایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کی صورت میں حزب اختلاف کے تمام کارکن قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دے دیں گے۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں راجہ ظفرالحق نے بتایا کہ اے پی ڈی ایم ’آئین کی دفعہ تریسٹھ میں ترمیم‘ کی مذمت کرتی ہے ان کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے مقاصد کے لیے ان اہم قوانین کو غیر فعال بنانا چاہتی ہے جو کہ عدلیہ کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
اجلاس میں عمران خان کے کراچی شہر میں داخلے پر پابندی کی بھی مذمت کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں کہیں بھی جانا ہر شہری کا حق ہے اور اس حق کی خلاف ورزی کرنا سراسر نا انصافی ہے۔
موجودہ حکومت کے طرز عمل پر احتجاج کرنے کے لیے اے پی ڈی ایم نے اکیس ستمبر بروز جمعہ ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔
حزب اختلاف کے مطابق ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، عدلیہ کی اجازت کے باوجود نواز شریف کی جلاوطنی اور آئین میں ترامیم کی کو ششیں موجودہ حکومت کی نا کامی کا ثبوت ہیں۔