Saturday, 08 September, 2007, 03:30 GMT 08:30 PST
امریکہ میں فیڈرل کورٹ نے ایران کو حکم دیا ہے کہ 1983 میں بیروت میں ایک بیرک پر بمباری کے دوران ہلاک ہونے والے 241 فوجیوں کے رشتہ داروں کو دو اعشاریہ پیسنٹھ بلین ڈالر ادا کرے۔
عدالت کے اس فیصلے سے ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے لگ بھگ ایک ہزار رشتہ داروں کو یہ حق مل جائے گا کہ وہ پوری دنیا میں وہ ایرانی اثاثوں پر اپنا دعویٰ پیش کرسکتے ہیں۔
لیکن ایران سے یہ پیسہ حاصل کرنا مشکل ہوگا، اس لیے متاثرین امریکی کانگریس سے ایک ایسے قانون کی منظوری کے لیے کام کررہے ہیں جس سے ان کو یہ معاوضہ حاصل کرنے میں آسانی ہو جائےگی۔
ایران نے 1983 کی بمباری میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور اس نے عدالت کو کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ اس بمباری کے لیے حزب اللہ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
جبکہ ایرانی حکومت پر اس حملے کے لیے حزب للہ کو وسائل اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں بین الاقوامی امن فوج کو لبنان سے واپس ہونا پڑا تھا۔
ڈِسٹرکٹ جج روائس سی لیمبرتھ نے اسے کسی ملک کے خلاف امریکی عدالت کا سب سے بڑا فیصلہ قرار دیا ہے۔ اس کی سماعت میں چھ سال لگے ہیں۔
پال ریورس نے، جو دھماکے کے وقت بیرک کی دوسری منزل پر تھے، عدالت کے فیصلے پر اپنا رد عمل یوں بتایا: ’ایک جنگ جیتنے کا احساس ہے۔‘