http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 06 September, 2007, 01:25 GMT 06:25 PST

شاہی خاندان اور سیاسی اصلاحات

سعودی عرب کے شاہی خاندان کے ایک اہم رکن شہزادہ طلال بن عبدالعزیز نے کہا کہ وہ سیاسی جماعت بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے اختیارات کی اجارہ داری اور اصلاحات کے عمل کو روکنے کے لیے شاہی خاندان کےدوسرے ارکان پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

شاہ عبداللہ کے سوتیلے بھائی طلال بن عبدالعزیز نے اصلاحات کے سرکردہ حامیوں کو قید کیے جانے پر بھی نکتہ چینی کی۔

مشرقِ وسطی کے بی بی سی کے تجزیہ نگار راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ شہزادہ طلال کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے ماضی میں بھی وہ اصلاحات کی بات کرتے رہے ہیں لیکن ان باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

خیال ہے کہ اب شہزادہ طلال کو شاہ عبداللہ کا نزدیکی سمجھا جاتا ہے۔ دو سال قبل جب شاہ عبداللہ اقتدار میں آئے تھے اس وقت سے انہیں اصلاح پسندی کا حامی سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہزادہ طلال سیاسی تبدیلی کی حد کو آزمانے کے لیے اب کھل کر اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔

تبدیلی کی یہ بات شہزادے نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ایک سیاسی جماعت شروع کرنا چاہتے ہیں جس کی سعودی عرب میں ممانیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ „مجھے معلوم ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے ہمارے سامنے کئی روکاوٹیں ہیں لیکن ہمیں شروعات تو کرنی ہوگی۔کسی کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ پارٹی ایسے لوگوں کو چیلنج کرے جو ستر سال سے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں ایسا کہہ کر انہوں نے اپنے ہی بھائیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

شہزادہ طلال نے جو ستر کے لپیٹے میں ہیں تبدیلی یا اصلاح کے کئی حامیوں کو قید کیے جانے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضمیر کے قیدی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یا تو ان پر عدالت میں مقدمہ چلایا جائے یا پھر رہا کر دیا جانا چاہئے۔