Monday, 03 September, 2007, 10:51 GMT 15:51 PST
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی حصے میں سڑک کے قریب ہونے والے ایک دھماکے میں افغان سکیورٹی فورس کے کم از کم چھ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
دھماکہ پاکستان کی سرحد کے قریب کنٹہر صوبے میں ہوا ہے جس کے بارے میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کسی بارودی سرنگ کے پھٹنے کا نتیجہ ہے۔ اس دھماکے میں سکیورٹی فورس کی گاڑی تباہ ہو گئی ہے۔ افغان حکام نے اس دھماکے کا الزام طالبان مزاحمت کاروں پر عائد کیا ہے جن کا اس علاقے میں مضبوط اثر موجود ہے۔
دو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے خاص طور پر افغانستان کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں پرتشدد کارروائیوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دھماکے کی تفصیلات کے بارے میں ابھی علم نہیں ہو سکا ہے اور ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کے بارے میں بھی متضاد اطلاعات ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں خفیہ ادارے کے افسران، پولیس اہلکار اور سکیورٹی گارڈز شامل ہیں جبکہ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس کمانڈر عبد الصبور اللہ یار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے چھ افراد افغان ملیشیاء کے فائٹرز تھے جو اتحادی فوج کے ساتھ کام کر رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرائی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے میں ملیشیاء کے چار دیگر اراکین زخمی بھی ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ایک اور واقعے میں جنوبی صوبے زابل میں مزاحمت کاروں نے سول گاڑیوں کے ایک قافلے پر حملہ کیا ہے جن پر غیر ملکی فوجی اڈوں کے لیے سامان لدا ہوا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ اس حملے میں قافلے میں شامل کم از کم بارہ گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔