http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 02 September, 2007, 07:32 GMT 12:32 PST

مغوی کوریائی وطن واپس پہنچ گئے

افغانستان میں طالبان کے قبضے سے رہائی پانے والے انیس کوریائی باشندوں نے اپنی وجہ سے قوم کو پہنچنے والی تکلیف پر معافی مانگی ہے۔

طالبان نے ایک مسیحی خیراتی ادارے کے لیے کام کرنے والے جنوبی کوریا کے تئیس باشندوں کو گزشتہ ماہ اس وقت یرغمال بنا لیا تھا جب وہ بس کے ذریعے قندھار سے کابل جانے والی شاہراہ سے گزر رہے تھے۔ رہائی پانے والے ان افراد کا جنہوں نے حکومت کی ہدایت کے برخلاف افغانستان کا سفر کیا، کہنا تھا کہ وہ اپنے ہم وطنوں کے انتہائی ممنون ہیں۔

چھ ہفتوں تک طالبان کے قبضے میں رہنے کے بعد کوریائی باشندوں کا یہ گروہ اتوار کو وطن پہنچا ہے۔ طالبان نے تئیس رکنی اس گروہ کے دو اراکین کو قتل کر دیا تھا۔ ابتداء میں گروہ کی دو مغوی خواتین کو رہا کیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے جن کے مطابق اس نے مغویوں کی رہائی کے لیے بطور تاوان رقم ادا کی ہے۔

رہائی پانے والی جنوبی کوریائی اراکین
 طالبان نے ایک مسیحی خیراتی ادارے کے لیے کام کرنے والے جنوبی کوریا کے تئیس باشندوں کو گزشتہ ماہ اس وقت یرغمال بنا لیا تھا جب وہ بس کے ذریعے قندھار سے کابل جانے والی شاہراہ سے گزر رہے تھے
 

جنوبی کوریا کے انچیون ائر پورٹ پر منتظر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے آتے وقت رہائی پانے والے اراکین نے اپنے ہاتھوں میں دونوں مقتول ساتھیوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ ان کے چہرے زرد اور وہ نڈھال دکھائی دے رہے تھے۔

گروہ میں شامل انیس سالہ یو کیانگ سک کا کہنا تھا کہ’ہم اپنی وجہ سے عوام کو پہنچنے والی تکلیف پر ان سے معافی چاہتے ہیں اور ان سب افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی کوششوں سے ہماری باحفاظت واپسی ممکن ہو سکی ہے۔ ہم حکومت اور لوگوں کے انتہائی ممنون ہیں‘۔ انہوں نے روتے ہوئے مقتول ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ’ ہم اپنی باقی زندگیاں ان کے لیے وقف کر دیں گے۔‘ یو کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ساتھیوں کے قتل کا اس وقت پتہ چلا جب انہیں اس ہفتے کے آغاز میں رہا کیا گیا۔

مغوی باشندوں کی رہائی اس ہفتے جنوبی کوریا کے حکام اور طالبان کے درمیان ہونے والے براہ راست مذاکرات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

تاوان کی رقم کی ادائیگی کے دعوے متعدد افغان اہلکاروں کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔

افغانستان کے صوبہ غزنی میں جہاں جنوبی کوریا کے مغوی باشندوں کو رکھا گیا تھا، وہاں سے طالبان کے ایک نمائندے نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے 10 ملین پونڈ ادا کیے ہیں تاہم طالبان کے دو دیگر ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ رقم ادا کی گئی ہے لیکن کافی کم رقم دی گئی ہے۔ افغان حکام نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ بطور تاوان ایک ملین ڈالر کی رقم دی گئی ہے۔

جنوبی کوریا نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔ سول کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی رہائی کے عوض اس بات پر تیار ہوگیا ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے اپنے دو سو فوجیوں کو واپس بلا لے گا۔ جنوبی کوریا نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ وہ افغانستان میں تمام مشنری کام ختم کر دے گا اور اس کے شہری افغانستان کا سفر نہیں کریں گے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بظاہر اس معاملے میں طالبان کی کامیابی نظر آتی ہے، جنہوں نے اغواء کیا اور ان کے مطالبات پورے کر دیے گئے۔ نامہ نگاروں کے مطابق موجودہ حالات میں اغواء کی وارداتوں میں اضافے کے خدشات کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔