Thursday, 30 August, 2007, 23:55 GMT 04:55 PST
افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں یرغمال بننے والے کوریائی باشندوں کے سات رکنی آخری گروپ کو بھی رہا کر کے ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ان کوریائی باشندوں کو جمعرات کے روز چند گھنٹوں کے فرق سے دو ٹکڑیوں میں رہا کیا گیا۔
بدھ کو چھ ہفتوں کے بعد طالبان نے بارہ کوریائیوں کو جو ایک مسیحی خیراتی ادارے کے کارکن تھے، رہا کر دیا تھا۔
طالبان نے تئیس افراد پر مشتمل کوریائی گروپ کو گزشتہ ماہ اس وقت یرغمال بنا لیا تھا جب وہ بس کے ذریعے قندھار سے کابل جانے والی شاہراہ سے گزر رہے تھے۔
بعد میں یرغمال بنائے جانے والے دو مردوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔
جمعرات کی شام یرغمال کوریائی باشندوں کی تین افراد پر مشتمل آخری ٹکڑی کو غزنی میں ریڈ کراس کی کمیٹی کے حوالے کیا گیا۔
اس سے قبل دن میں دو عورتوں اور دو افراد کو جندا کے گاؤں میں رہا کیا گیا تھا۔ بی بی بی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ رہا ہونے والے تمام کوریائی باشندے صحت مند دکھائی دیتے ہیں۔
ان کی رہائی سے قبل جنوبی کوریا کی حکومت اور طالبان کے درمیان براہِ راست کئی بار رابطہ ہوا۔ پندرہ دن قبل پہلی بار کوریائی حکومت اور طالبان میں رابطے کے بعد دو خواتین کو رہا کر دیا گیا تھا۔
اپنے شہریوں کی رہائی کے عوض جنوبی کوریا اس بات پر تیار ہوگیا ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے اپنے دو سو فوجیوں کو واپس بلا لے گا۔ جنوبی کوریا نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ وہ افغانستان میں تمام مشنری کام ختم کر دے گا اور اس کے شہری افغانستان کا سفر نہیں کریں گے۔
فوری طور پر اس کا پتہ نہیں چلا کہ آیا جنوبی کوریا نے طالبان کو کوئی رقم بھی دی ہے یا نہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ طالبان اور کوریا کی حکومت میں جو ڈیل ہوئی ہے اس میں یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے زرِ تلافی بھی ادا کیا گیا ہے۔
طالبان نے اپنا یہ مطالبہ بھی ختم کر دیا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں اس کے اراکین افغانستان کی جیلوں سے رہا کیے جائیں۔