Tuesday, 28 August, 2007, 21:53 GMT 02:53 PST
عراقی شہر کربلا میں مسلح افراد اور عراقی پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد امن و امان کی صورتحال بگڑ گئی ہے اور کربلا کے علاوہ نجف اور حلہ میں بھی کرفیو لگا دیا گیا ہے۔
ان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم پچاس افراد ہلاک اور دو سو زخمی ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق مسلح افراد خودکار ہتھیاروں اور راکٹوں سے پھینکے جانے والے بموں سے مسلح ہیں۔
بغداد میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ ان جھڑپوں میں
مقتدٰی الصدر کی مہدی ملیشیا کے ارکان ملوث ہیں جبکہ ان کا مقابلہ کرنے والی پولیس کو ایک دیگر شیعہ جماعت سپریم عراقی اسلامی کونسل کی حمایت حاصل ہے۔
تاہم مقتدٰی الصدر نے کہا ہے کہ ان کے حامیوں کا ان جھڑپوں سے تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ حالات کی بہتری کے لیے’حکام‘ کا ساتھ دیں۔
اس سے قبل کربلا میں امام حسین کے روضے کے قریب موجود ایک زائر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ’ ہر جانب سے گولیاں چل رہی ہیں۔ میں نے ابھی تھوڑی دیر قبل شدت پسندوں کے راکٹ حملے کے بعد ہوٹلوں کو جلتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کون کر رہا ہے۔ ہمیں ہوٹل سے باہر جانے کی اجازت نہیں اور روضوں کو بند کر دیا گیا ہے‘۔
عراقی پولیس نے جھڑپوں کے بعد کربلا کے علاوہ نجف اور حلہ میں بھی کرفیوں نافذ کر دیا ہے اور کربلا میں امام مہدی کے یومِ پیدائش کی تقریبات کے لیے موجود لاکھوں زائرین کو شہر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔عراقی حکام کا کہنا ہے کہ زائرین کے انخلاء کے لیے بسیں بھیجی گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے عراقی وزارتِ داخلہ کے ترجمان میجر جنرل عبدالکریم خالف کے حوالے سے بتایا ہے کہ کربلا شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو محفوط بنا دیا گیا ہے اور ملک کے دیگر علاقوں سے سکیورٹی فورسز کربلا بھیجی جا رہی ہیں۔
ادھر بغداد میں بھی پولیس کے مطابق مقتدٰی الصدر کے گڑھ صدر سٹی کے علاقے میں تشدد کے واقعات میں پانچ افراد مارے گئے ہیں جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عراق کے شیعہ اکثریتی شہر دیوانیہ میں بھی سپریم کونسل کی ایک مسجد پر مسلح افراد کی فائرنگ کے بعد پولیس نے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔