Wednesday, 29 August, 2007, 00:35 GMT 05:35 PST
عراق میں ایرانی سفارتخانے کے مطابق امریکی فوجیوں نے بغداد میں مقیم سات ایرانی باشندوں کوگرفتار کر لیا ہے۔
سفارتخانے کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایرانی سفارتخانے کے حکام نے اس حوالے سے عراقی وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا ہے اور وہ بدھ کی صبح باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے ایرانیوں کا تعلق ایران کی وزارتِ بجلی سے ہے اور وہ ایک بجلی گھر کے تعمیر کے سلسلے میں عراقی دارالحکومت میں موجود تھے۔ ان افراد کا قیام شیریٹن ہوٹل میں تھا اور انہیں وہیں سے گرفتار کیا گیا۔
امریکی فوج نے ان گرفتاریوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی ایک ایسے آپریشن کا حصہ تھی جو ابھی جاری ہے۔
تصاویر میں امریکی فوجیوں کو چند افراد کو وسطی بغداد کے ہوٹل سے لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جن کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی تھیں اور انہیں ہتھکڑیاں بھی لگائی گئی تھیں۔ فوجیوں کو ہوٹل سے سامان اور ایک لیپ ٹاپ کمپیوٹر بیگ لے جاتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔
ان ایرانیوں کی گرفتاری امریکی صدر جارج بش کی اس تقریر کے کچھ دیر بعد ہی عمل میں آئی ہے جس میں انہوں نے ایران کو ایک بار پھر متنبہ کیا ہے کہ وہ عراق میں شدت پسندوں کی مدد کرنا بند کر دے۔ صدر بش کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے فوجی کمانڈروں کو’ایران کی قاتلانہ کارروائیوں‘ سے نمٹنے کی اجازت دی ہے۔
عراق میں امریکی فوج کے ہاتھوں ایرانیوں کی گرفتاری کا یہ پہلا واقعہ نہیں اور جنوری میں بھی عراق کے شمالی شہر اربیل میں امریکی فوج نے پانچ ایرانی باشندوں کوگرفتار کیا تھا اور ان پر عراقی شدت پسندوں کو تربیت دینے کا الزام عائد کیا تھا۔