http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 27 August, 2007, 13:13 GMT 18:13 PST

ثقلین امام
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

پانی میں لکھے لفظ انگارے ہیں

گوانتاناموبے کے امریکی فوجی اڈے میں قائم جیل میں تین سو سے زائد ایسے افراد زیر حراست ہیں جنہیں موجودہ امریکی انتظامیہ انتہاپسند جنگجؤ قرار دیتی ہے۔

امریکی حکومت انہیں دہشتگرد کہتی ہے، مگر انہیں مبینہ دہشتگردوں میں سے کچھ نے ذہنی کرب کے اظہار کے لیے شاعری کا سہارا لیا ہے۔گوانتاناموبے کے قیدیوں کی شاعری ایک امریکی وکیل مارک فیلکوف نے حال ہی میں ایک کتاب ’Poems from Guantanamo‘ یعنی گوانتاناموبے کی نظمیں شائع کی ہے۔

گوانتانامو کے قیدی بولتے ہیں

مارک فیلکوف کہتے ہیں کہ نظموں کے اس مجموعے کی اشاعت کا مقصد گوانتانامو کے قیدیوں کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنا ہے کہ یہ لوگ انسان ہیں دہشت گرد نہیں۔

اس شاعری کو شروع شروع میں امریکی فوجی دہشت گردوں کی خفیہ زبان بھی کہتے رہے اور اس پر پابندی رہی۔ لیکن فیلکوف بتاتے ہیں کہ بالآخر امریکی اہلکاروں کو احساس ہوگیا کہ یہ واقعی شاعری ہے۔

ابتداء میں تو قیدیوں کو کاغذ اور قلم صرف گھر والوں کو خط لکھنے کے لیے فراہم کیے جاتے تھے، جو ریڈ کراس بھجواتی تھی۔ کاغذ اور قلم کی غیر موجودگی میں گوانتانامو کے شاعر قیدی کھانے پینے کے برتنوں پر چمچوں کی مدد سے کھرچ کھرچ کر لکھتے اور کبھی کبھار ٹوتھ پیسٹ کا بھی استعمال کیا جاتا۔

بحرین سے تعلق رکھنے والے قیدی جمعہ الدوساری نے کم از کم بارہ مرتبہ خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ جب گرفتار ہوئے تو ان کی بچی چھ برس کی تھی جسے دیکھنے کے لیے وہ تڑپتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

لے جاؤ میرا لہو
میرا کفن بھی لے جاؤ
میری ہڈیاں بھی بچی ہیں تو وہ بھی لے جاؤ
قبر میں اگر میری تنہا لاش رہ گئی ہو تو اس کی تصویریں بنا لو
دنیا بھر میں ان کی تشہیر کرو
دکھاؤ انہیں انصاف کرنے والوں کو
ان لوگوں کو بھی جن کے ضمیر زندہ ہیں
ان سے کہو اس معصوم کی روح
اس لہو کا حساب مانگ رہی ہے
دنیا سے ۔۔۔ آنے والی نسلوں سے ۔۔۔ تاریخ سے
کیا جرم تھا اس بے گناہ کا
یہ کس جرم میں مارا گیا
یہ بے گناہ ان لوگوں کے ہاتھوں مارا گیا
جو دنیا میں امن کے رکھوالے ہیں

وہ ایک قیدی ابراہیم الروبیعیش کی نظم ’Ode to the sea‘ سناتے ہیں:

اے بحرِ بے کنار
کیا ہمارے تغیر سے تو ناراض ہوتا ہے
ہم تو مجبور ہیں
نہ اپنی مرضی سے آئے نہ مرضی سے گئے
کیا تو ہمارے گناہ کو جانتا ہے
کیا تجھے معلوم ہے کہ ہم اس غم میں کیوں مبتلا ہیں
اے بحرِ بے کنار
تو ہماری قید پر ہمیں رسوا کرتا ہے
تو ہمارے دشمن سے جا ملا ہے اور ہم پر نظر رکھتا ہے !
کیا تیرے سینے میں سنگلاخ چٹانیں تجھے نہیں بتاتیں کہ یہاں کیا جرم ہوتا ہے
کیا کیوبا کا یہ بیاباں تجھے یہاں کے مظالم نہیں بتاتا ہے
ہم تیرے سامنے کتنے برسوں سے پڑے ہیں
اور تجھے کیا ملا، پانی میں لکھے لفظ انگارے ہیں ۔۔۔ دہکتے کوئلے کی مانند دل

بائیس نظموں پر مشتمل اس کتاب میں پاکستانی قیدی عبدالرحیم مسلم دوست کی بھی دو نظمیں شامل ہیں۔ مسلم دوست اب رہا ہو چکے ہیں۔ فیلکوف کہتے ہیں کہ مسلم دوست کی نظمیں کوڑے میں کہیں گم ہو گئی تھیں جنہیں حافظے کی بنیاد پر ضبط تحریر میں لایا گیا ہے۔