Sunday, 26 August, 2007, 20:29 GMT 01:29 PST
عراقی وزیراعظم نوری المالکی کا کہنا ہے کہ عراق کے شیعہ، سنّی اور کرد رہنماؤں نے مفاہمت کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ عراق کے سیاسی عمل کی تعمیرِ نو کے حوالے سے کرد اور شیعہ جماعتوں کے اتحاد کے بعد دوسرا اہم قدم ہے۔
نوری المالکی نے کہا کہ شیعہ اور کرد جماعتوں کی جانب سے بنائی جانے والی کمیٹی’چند حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوئی ہے‘۔اس پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ عراقی صدر جلال طالبانی، سنّی نائب صدر طارق الہاشمی، شیعہ نائب صدر عادل عبدالمہدی اور کرد خطے کے صدر مسعود برزانی بھی شریک ہوئے۔
تاہم بغداد میں بی بی سی کے نمائندے مائیک وولرج کے مطابق شیعہ اور کرد جماعتوں کے اتحاد اور اس مفاہمت کے باوجود عراق میں ایک وسیع البنیاد حکومت کے قیام کی امید کرنا فی الحال صحیح نہیں۔
ادھر عراق کے سنّی نائب صدر طارق الہاشمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ مفاہمت کے حوالے سے حالیہ مداکرات میں بطور نائب صدر شریک ہوئے ہیں اور ان کی شرکت اس بات کی غماز نہیں کہ ان کی جماعت عراقی اسلامک پارٹی شیعہ کرد اتحاد میں شامل ہو سکتی ہے۔
دریں اثناء اتوار کو ہی عراقی وزیراعظم نے امریکی سیاستدانوں کے اس بیان کی مذمت کی جس میں نوری المالکی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ڈیموکریٹ سینیٹرز ایسا برتاؤ کر رہے ہیں کہ جیسے عراق ان کی جائیداد ہو اور انہیں سمجھداری سے کام لینا چاہیے اور جمہوریت کا احترام کرنا چاہیے‘۔