Wednesday, 22 August, 2007, 19:04 GMT 00:04 PST
امریکی صدر جارج بش نے خبردار کیا ہے کہ عراق سے امریکی افواج کی واپسی پر ویسی ہی تباہی ہو سکتی ہے جیسا کہ ویتنام سےامریکی فوج کی واپسی پر جنوب مشرقی ایشیا میں دیکھنے میں آئی تھی۔
کینسس سٹی مسوری میں سابق فوجیوں کے کنوینشن سےخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویتنام سےامریکی افواج کی واپسی کی قیمت لاکھوں بےگناہ شہریوں کو چکانی پڑی تھی۔جارج بش نے کہا کہ ویتنام کی جنگ نے جو سبق سکھایا ہے اس کو دیکھتے ہوئے امریکہ کو عراق میں صبر سے کام لینا ہوگا۔
اپنی اس تقریر کا آغاز جارج بش نے ایسے کچھ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کیا جن کے تحت امریکہ کئی تنازعوں سے دور رہنے میں کامیاب رہا اور خاص طور پر جاپان کا ذکر کیا جسے امریکہ اپنے دشمن سے اتحادی بنانے میں کامیاب رہا۔
انہوں نےعراق سے افواج کی واپسی کی اپیلوں کا موازنہ 1975 میں ویتنام جنگ کے بعد کے واقعات سے کیا ان کا کہنا تھا کہ ’ کئی لوگوں کی دلیل تھی کہ اگر ہم ویتنام سے باہر آجائیں تو کچھ نہیں ہوگا لیکن دنیا نے دیکھا کہ اس کی کتنی بڑی قیمت چکانی پڑی۔
اس سلسلے میں انہوں نےویتنام میں امریکی اتحادیوں کے ساتھ ہونے والےسلوک، ویتنامی پناہ گزینیوں کے مسائل اور پول پاٹ کھمیرروج کے دور میں ہونے والے قتلِ عام کا حوالہ دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق میں ایک خطرہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ فوج کی واپسی القاعدہ کی جیت کی علامت ہوگا۔
صدر بش کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اورعراقی وزیراعظم نوری مالکی کے درمیان بظاہر اختلافات کی خبریں آ رہی ہیں جارج بش نے کہا کہ ’مسٹر نوری ایک اچھے انسان ہیں جنہیں بہت مشکل ذمہ داری سونپی گئی ہے‘۔
اس سے کچھ دیر قبل عراقی وزیراعظم نے اپنے کام کے بارے میں امریکی تنقید کو ’غیر مہذب‘ کہا تھا۔ ان کے اس بیان کے جواب میں وائٹ ہاؤس نے نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر بش کے خیال میں عراق کی قیادت کے لیےمسٹر مالکی ہی درست رہنما ہیں۔
بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ جارج بش کی تقریر سے اس تنازعہ کو مزید ہوا ملے گی کہ آیا وہ ویتنام جنگ سے صحیح سبق حاصل کر رہے ہیں یا غلط۔
نامہ نگار کے مطابق رائےعامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ کئی امریکی اس جنگ کو اس نظر سے نہیں دیکھتے جارج بش اپنے ملک میں ان بڑے موضوعات پر بہت زور و شور سے بول رہے ہیں کیونکہ انہیں کئی سیاسی مسائل کا سامنا ہے اور ان کے عہدے کی مدت ختم ہونے میں تقریباً اٹھارہ ماہ رہ گئے ہیں۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کے جانشین اس مسئلے کو اسی تاریخی اور نظریاتی پسِ منظر میں دیکھیں گے۔