Tuesday, 21 August, 2007, 14:48 GMT 19:48 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
طالبان نے الزام لگایا ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت اپنے اغواء شدہ باشندوں کی رہائی میں دلچسپی نہیں لے رہی ہے اور مغویوں کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری جنوبی کوریا پر عائد ہوگی۔
طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے افغانستان کے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کوریا کے اہلکاروں اور طالبان کے درمیان انیس کوریائی باشندوں کی رہائی کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں تاہم بقول ان کے جنوبی کوریا کے اہلکار مغویوں کی خیریت معلوم کرنے کے سلسلے میں انکے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں۔
طالبان ترجمان نے الزام لگایا کہ جنوبی کوریا کے سرکاری اہلکار اپنے باشندوں کی رہائی میں بظاہر زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے ہیں اور وہ افغان حکومت کے زیر حراست آٹھ طالبان رہنماؤں کی رہائی میں بھی ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک طالبان رہنماؤں نے مغویوں کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے تاہم اغواء شدہ کوریائی باشندوں کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری جنوبی کوریا پر ہی عائد ہوگی۔
قاری یوسف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران طالبان نے اعتماد کی بحالی کی خاطر دو بیمار کوریائی خواتین کو رہا کر دیا تھا لیکن بدلے میں جنوبی کوریا اسیر طالبان کو رہا کروانے میں ناکام ہوگیا ہے۔ ان کے بقول مغویوں کی صحت اچھی ہے اور وہ افغانستان کے موسم کے آہستہ آہستہ عادی ہو رہے ہیں۔
![]() | |
| طالبان نے دو کوریائی خواتین کو رہا کر دیا تھا |
افغان حکومت جسے ماضی میں بھی طالبان سے اغواء شدہ شہریوں کی رہائی کے عوض ان کے مطالبات تسلیم کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے نے اب کوریا کے باشندوں کی بازیابی کے لیے طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کیا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اغواء شدہ جنوبی کوریا کے باشندوں کو مختلف گروپوں میں غزنی شہر سے کئی میل دور کسی گاؤں میں رکھا گیا ہے۔