Tuesday, 21 August, 2007, 09:30 GMT 14:30 PST
اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر افغانستان میں جنگ بند نہ ہوئی تو مزید افغان شہری اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے نمائندے والٹر کیلن کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں شامل تمام فریقین کو افغان شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔
ترجمان نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سخت خلاف ورزی کرنے پر طالبان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
جنگ کے باعث اس سال ہزاروں افغانی مجبوراً اپنے گھروں کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
ملک کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں جاری لڑائی کے باعث افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
اگست کے شروع صوبہ ہلمند میں طالبان لیڈروں کے ایک گروہ پر امریکی فوج کی سربراہی میں ایک دستے نے فضائی حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں پچاس افغان شہری زخمی ہو گئے تھے۔
اس سال جولائی میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر زالمے خلیل زاد نے افغانستان میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تین سو سے زائد ہلاکتوں پر رنج کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی اور دوسری بین الاقوامی دستوں نے اپنی پوری کوشش کی ہے کہ حملوں میں عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔
حال ہی میں افغانستان کے صدر حامد کرزائی نے عام شہریوں کی ہلاکتوں پر مغربی افواج کو تنبیہ کی تھی۔